بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

استخارہ میں کوئی اشارہ نہ ملے تو کیا حکم ہے؟


سوال

اگر استخارہ میں کچھ بھی اشارہ نہ ملے تو اس کا کیا مطلب ہے ؟

جواب

استخارے میں واضح اشارہ ملنا یا خواب آنا ضروری نہیں ہے، بلکہ استخارہ کے  بعد  جس طرف دل مائل ہو وہ کام کرلیا جائے، اگر ایک دفعہ میں قلبی اطمینان حاصل نہ ہو تو سات دن تک یہی عمل دہرائے، ان شاء اللہ خیر ہوگی، حاصل یہ ہے کہ استخارہ میں اصل بات قلبی رجحان اور اطمینان ہے۔ اور بعض اوقات قلبی رجحان استخارے کے بعد متعلقہ چیز کے مفاسد یا فوائد واضح ہوجانے سے بھی ہوجاتاہے۔

استخارہ کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

استخارہ کے کتنے طریقے ہیں؟ تسبیحات اور اعداد و شمار کے ذریعہ استخارہ کرنے کا حکم

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144109203007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں