بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

اسقاطِ حمل پر کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟


سوال

میاں بیوی نے باہمی رضامندی سے پانچ مہینے کے حمل کا اسقاط کروایاہے، کیا ان پر کفارہ وغیرہ لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں اسقاطِ حمل چار ماہ کے بعد   قتل کے زمرے میں ہونے کی وجہ سے  ناجائز اور حرام ہے، کیوں کہ چار ماہ کے بعد بچہ کے اندر روح پھونک دی جاتی ہے؛  اسی لیےچار ماہ کے بعد کسی بھی صورت میں اسقاطِ حمل کی اجازت نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں میاں  بیوی کے باہمی رضامندی سے پانچ مہینے کے حمل کو ساقط کروانا  ناجائز اورحرام تھا، نیز میاں بیوی کے باہمی رضامندی سے اسقاطِ حمل کی وجہ سے نہ شوہر پر بیوی کےلیے اور نہ بیوی پر شوہر کےلیےدیت  یعنی غرہ   لازم نہیں ہوگا،اور نہ ہی کفارہ لازم ہوگا،  البتہ میاں بیوی دونوں اپنے اس فعل کی وجہ سے گناہ گار ہیں، اس  پر توبہ واستغفار کریں اور  اللہ تعالیٰ کےحضور اپنے اس گناہ کےلیے معافی مانگیں۔

درمختار میں ہے:

"و یکره أن تسعی لإسقاط حملها، وجاز لعذر حیث لایتصور.

وفی الرد:(قوله: ویکره الخ) أي مطلقًا قبل التصور و بعد علی ما اختاره في الخانیة کما قد مناه قبیل الا ستبراء، وقال: إلا أنّها لاتأثم إثم القتل."

(الدر مع الرد، قبیل کتاب إحیاء الموات، ج:6، ص:429، ط: سعيد)

وفیه أیضاً:

"ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل."

(كتاب النكاح، مطلب في حكم العزل، ج:3، ص:176، ط: سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"والمرأة إذا ضربت بطن نفسها، أو شربت دواء لتطرح الولد متعمدة، أو عالجت فرجها حتى سقط الولد ضمن عاقلتها الغرة إن فعلت بغير إذن الزوج، وإن فعلت بإذنه لا يجب شيء كذا في الكافي."

(كتاب الجنايات، ج:6، ص:35، ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101739

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں