بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اسرائیلی مصنوعات کابائیکاٹ


سوال

میرا سوال اسرائیلی پروڈکٹس کے حوالے سے ہے، میری میڈیکل کی شاپ ہے ،جس میں اسرائیلی پروڈکٹس بھی ہوتی تھی لیکن جب سے بائیکاٹ کی مہم شروع ہوئی تب سے ہم نے بھی بائیکاٹ شروع کر دیا ہے ،لیکن کچھ عرصہ بعد والد صاحب اور بھائیوں نے اسرائیلی پروڈکٹس پھر سے رکھ لیں اور کہا کہ اگر نہیں رکھیں گے تو بیچیں گے کیا ؟میں نے بہت منع کیا کہ نہیں رکھیں ،لیکن انہوں نے بات نہیں مانی اور اسرائیلی پروڈکٹس رکھ لیں،

 لیکن میں اپنی ذات سے اسرائیلی پروڈکٹس کا بائیکاٹ کر رہا ہوں ،لیکن والد صاحب اور بھائیوں نے جو اسرائیلی پروڈکٹس رکھی ہیں اس سے  کیا  میرا ذمہ  بری ہوتاہے  ؟

جواب

 ایک مسلمان کی غیرت ایمانی کا تقاضا یہ ہے، کہ وہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے، اور اپنی طاقت اور قدرت کے بقدر  اہلِ فلسطین کےسا تھ ہر طرح کا مالی اور جانی تعاون اور تناصر کرے اور اسرائیل کی ہر قسم (عسکری، مالی ، سیاسی) کی اور ہر سطح پر مخالفت کرے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ان کی معیشت کو ہماری وجہ سے کوئی فائدہ  نہ پہنچے ،لہذا ان کی مصنوعات کی خرید وفروخت درحقیقت  مسلمانوں کے دشمن یہودیوں کو قوت پہنچانا ہے، جوکہ ایک مسلمان کے ایمانی غیرت کے خلاف ہے ۔باقی سائل کا یہ کہنا کہ میں اپنی ذات تک اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتا ہوں، لیکن والد صاحب اور بھائیوں کا اصرار ہے کہ اسرائیلی مصنوعات نہیں  بیچیں گے تو کیا بیچیں گے  ،تواس حوالے سے معلوم ہونا چاہیے کہ بائیکاٹ انہیں مصنوعات کاممکن ہے جو ہمارے لیے ضروری نہیں ہے یا ان کا کوئی متبادل ہمارے پاس موجود ہو ، جن مصنوعات کا استعمال ہمارے لیے ضروری ہے، اور ان کاکوئی متبادل بھی ہمارے پاس موجود نہ ہو تو ایسے مصنوعات کی خرید وفروخت استعمال کرنے کی مجبورا گنجائش ہے ،لہذا  ایسے مصنوعات  جو ہمارے لیے ضروری نہ ہوں، یاان کا کوئی متبادل ہمارے پاس موجود ہو ،ان  کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، سائل اپنےوالد اور بھائیوں کو نرمی،حکمت اور مصلحت سے سمجھائے، تاہم اس دوران لہجہ سے امتیازی سلوک، یا بدکلامی کا احساس نہ ہو، اور نہ ہی ان کی غلطی ثابت کرنا مقصود ہو، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ کر اخلاص سے ان کو سمجھایا جائے تو کوئی گناہ بھی نہ ہوگا، اور اس کے ساتھ  ساتھ  ان شاء اللہ  اللہ تعالیٰ معاون بھی ہوں گے، اگروہ بات نہ مانیں تو آپ کا ذمہ بری ہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ترى المؤمنين في تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد إذا ‌اشتكي عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى. متفق عليه

(وعن النعمان بن بشير) : مر ذكرهما رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ترى المؤمنين) أي: الكاملين (في تراحمهم) أي: في رحم بعضهم بعضا بأخوة الإيمان لا بسبب رحم ونحوه (وتوادهم) بتشديد الدال المكسورة أي: تواصلهم الجالب للمحبة كالتزاور والتهادي (وتعاطفهم) أي: بإعانة بعضهم بعضا (كمثل الجسد) أي: جنسه (الواحد) : المشتمل على أنواع الأعضاء (إذا ‌اشتكى) أي: الجسد (عضوا) لعدم اعتدال حال مزاجه، ونصبه على التمييز، والمعنى: إذا تألم الجسد من جهة ذلك العضو، وفي نسخة إذا ‌اشتكي عضو بالرفع أي: إذا تألم عضو من أعضاء جسده (تداعى له) أي: ذلك العضو (سائر الجسد) أي: باقي أعضائه (بالسهر) بفتحتين أي: عدم الرقاد (والحمى) أي: بالحرارة والتكسر والضعف، ليتوافق الكل في العسر كما كانوا في حال الصحة متوافقين في اليسر، ثم أصل التداعي أن يدعو بعضهم بعضا ليتفقوا على فعل شيء، فالمعنى: أنه كما أن عند تألم بعض أعضاء الجسد يسري ذلك إلى كله، كذلك المؤمنون كنفس واحدة إذا أصاب واحدا منهم مصيبة ينبغي أن يغتم جميعهم ويهتموا بإزالتها عنه، وفي النهاية: كان بعضه دعا بعضا، ومنه قولهم: تداعت الحيطان أي: تساقطت أو كادت، ووجه الشبه هو التوافق في المشقة والراحة والنفع والضر. (متفق عليه)."

(کتاب الآداب، باب الشفقة، ج :7، ص:3102،ط: دار الفکر)

تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي میں ہے:

"عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أحدثكم بأكبر الكبائر؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، قال: وجلس وكان متكئا، قال: وشهادة الزور أو قول الزور، فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت".

(وعقوق الوالدين) بضم العين المهملة مشتق من العق وهو القطع والمراد به صدور ما يتأذى به الوالد من ولده من قول أو فعل إلا في شرك أو معصية ما لم يتعنت الوالد، وضبطه ابن عطية بوجوب طاعتهما في المباحات فعلا وتركا، واستحبابها في المندوبات وفروض الكفاية كذلك، ومنه تقديمهما عند تعارض الأمرين، وهو كمن دعته أمه ليمرضها مثلا بحيث يفوت عليه فعل واجب إن أستمر عندها ويفوت ما قصدته من تأنيسه لها وغير ذلك أن لو تركها وفعله وكان مما يمكن تداركه مع فوات الفضيلة كالصلاة أول الوقت أو في الجماعة (قالً وجلس) أي للاهتمام بهذا الأمر وهو يفيد تأكيد تحريمه وعظم قبحه (وكان متكئاً) جملة حالية، وسبب الاهتمام بذلك كون قول الزور أو شهادة الزور، أسهل وقوعاً على الناس والتهاون بها أكثر، فإن الإشراك ينبو عنه قلب المسلم. والعقوق يصرف عنه الطبع، وأما الزور فالحوامل عليه كثيرة كالعداوة والحسد وغيرهما فاحتيج إلى الاهتمام بتعظيمه، وليس ذلك لعظمهما بالنسبة إلى ما ذكر معها من الإشراك قطعاً، بل لكون مفسدة الزور متعدية إلى غير الشاهد بخلاف الشرك فإن مفسدته قاصرة غالباً. وهذا الحديث يأتي أيضاً بسنده ومتنه في الشهادات."

(كتاب البر والصلة،باب ما جاء في عقوق الوالدين، ج:6، ص:23، ط:دارالكتب العلمية)

البحرالرائق میں ہے:

"وفي الھدایۃ : کل ذلک یکرہ ولایفسد بہ البیع لأن النھي لمعنی خارج زائد لا في صلب العقد ولا في شرائط الصحة."

(کتاب البیع،فصل في البيع الفاسد،ج:6،ص:165،ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية."

(کتاب الکراہیة،الباب الخامس عشر في أہلِ الذمة،ج،5،ص:346،دار الفکر)

سوانح شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒمیں ہے:

"با وجود اس اہتمام و اجتناب کے بعض چیزیں بدرجہ مجبوری استعمال ہی کرنا پڑتی تھیں، دوسو سالہ غلامی نے ہندوستان کو بالکل مفلوج و نا کارہ کر دیا تھا۔ روز مرہ کے استعمال کی ساری ہی چیزیں لال ٹین، چھری، چاقو ،قینچی، سوئی ، بوتلیں ، شیشیاں، فا ؤنٹن پن، قلم کی نب ، روشنائی، چشمہ، تھر ماس ،غرض استعمال کی ساری ہی چیزیں ولایت ہی سے آتی تھیں ، ان تمام اشیاء میں حضرت صرف وہ چیزیں بجر وکراه استعمال فرماتے تھے جن کے بغیر چارہ نہیں تھا،اپنی پالیسی کے بارے میں فرماتے ہیں: 

میں حتی الوسع غیر ہندوستان کی بنی ہوئی چیزیں استعمال نہیں کرتا البتہ جو چیزیں ہندوستان  میں تیار نہ ہوسکتی ہوں ،اور ان کی ضرورت بھی ہو ان کو بقدر حاجت استعمال کرتاہوں. میرے پاس سوائے گھڑی عینک اور فاؤنٹن پین کے اور کوئی چیز غیر وطنی  نہیں ہے ، فاؤنٹن پین بھی سوائے سفر کے دوسرے اوقات میں استعمال نہیں کرتا۔ آپ کے مرسل کا غذات غیر وطنی تھے۔ مجھ کو اسلامیت اور وطنیت کا سودا سخت ہے، میں زیادہ ضروری سمجھ رہا ہوں کہ مسلمان اور اہلِ ہند کھدر کا استعمال کریں اور ولایتی چیزوں سے حتی الوسع گریز کریں ۔"

(ص:386،ط:جامعہ دارالعلوم رحیمیہ)

امداد الفتاوی میں ہے:

”اضرار کفار کے لیے ان کی بنائی ہوئی چیزوں کی تجارت ترک کرنا۔

سوال:طرابلس پر اٹلی کا قبضہ ہوجانے سے ہندوستان کے مسلمانوں میں جس قدر بے چینی ہے ایک گونہ اثر اس کا دہلی میں بھی ہے،چنانچہ دہلی کے ایک جلسہ میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ اٹلی کے ساتھ تجارتی لڑائی کریں اٹلی  ساخت کے کل سامان کا استعمال ترک کردیں،خرید وفروخت بالکل چھوڑدیں،جو ایسا(نہیں )کریگاوہ کافر ہے،سلطان کا خیرخواہ نہیں اٹلی کا حامی ہے اور اس کا عملی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے اسی جلسہ میں اٹلی ساخت کی ترکی ٹوپیاں اتار اتار کر جلادیں،میری دکان پر سامان اکثر فینسی ہوتا ہےجس میں بہت سی چیزیں اٹلی ساخت بٹوا،قینچی،چاقو،بٹن،استرہ وغیرہ وغیرہ بھی ہوتے ہیں،لوگوں  نے بہت تنگ کرنا شروع کیا کہ ان چیزوں کا فروخت کرنا چھوڑدو۔فقط

الجواب:کافر ہونے کی تو کوئی وجہ نہیں اور بلکہ بیع ناجائز بھی نہیں،لیکن افضل یہی ہے بشرط یہ ہے کہ اپنا ضرر اور اتلاف مال نہ ہو ورنہ افضل کیا جائز بھی نہیں ہے۔فقط“

(کتاب البیوع،ج3،ص88،ط؛مکتبہ دار العلوم)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں