بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اسرائیلی ویب سائٹ پر کام کرنا


سوال

fiver  ایک اسرائلی ویب سائٹ ہے،  جس  پر دنیا کے مختلف ممالک سے ایمپلوئیر آتے ہیں اور مختلف ممالک کے فری  لانسرز کو ہائر کرتے ہیں،  اپنی کمپنی کے کام کے  لیے،  اور کام پورا ہونے پر پیمنٹ کردیتے ہیں۔  اب سوال یہ ہے کہ  کیا ہم اس اسرائیلی ویب  سائٹ کے ذریعے  کام کرسکتے ہیں؟ واضح رہے کہ  جن لوگوں کا ہم کام کر کے دیں گے اور ان سے پیسے لیں گے ان کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ  وہ ایشیا اور یورپ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں،  ہاں لیکن ہماری پیمنٹ میں سے 20  فیصد ویب سائٹ اپنی فیس کے طور پے کٹوتی کرتی ہے، باقی ہمارے کام کا 80 فیصد ہمیں ملتا ہے ۔

جواب

وہ  ممالک یا افراد جو مختلف مواقع پر مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے رہتے ہیں، ان کی مصنوعات استعمال کر کے ان کو فائدہ پہنچانا یا ان کی ویب سائٹ پر کام کرکے ان کی معیشت کو فائدہ پہنچانا ایمانی غیرت کے خلاف ہے؛  اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ مسلمانوں پر مظالم ڈھانے والے ممالک اور ریاستوں کو فائدہ پہنچانے  سے مکمل طور پر گریز کرے، اس نوعیت کا بائیکاٹ کرنا اسلامی غیرت، اہلِ اسلام سے یک جہتی اور دینی حمیت کا مظہر ہوگا۔

لہٰذا بصورتِ مسئولہ اگرچہ مذکورہ ویب سائٹ پر مختلف کمپنیوں کے ملازمین یا فری لانسرز کا بروکری کی شرائط کی رعایت رکھ کر معاملات کرنا فی نفسہ جائز ہوگا، لیکن سوال  میں موجود صراحت کے مطابق  مذکورہ  ویب سائٹ سے  حاصل ہونے والی آمدنی کا 20 فیصد چوں کہ اسرائیلی کمپنی کو جاتا ہے،  گویا اس ویب سائٹ پر کام کرنا اسرائیل کو فائدہ پہنچانا ہے،  اس لیے اس ویب سائٹ پر کام کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201178

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں