بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اسقاطِ حمل کے بعد خون جاری ہو گیا تو طہارت کا کیا حکم ہوگا؟


سوال

ایک عورت کا چند روز یا ایک ماہ کا حمل تھا جو ڈاکٹر نے ٹیسٹ اور پھر الٹراساونڈ کے ذریعے دیکھا اور کہا کہ حمل ضائع ہوگیا اور خود بخود نکل جائے گا، اور ایسے ہی ہوا مگر نظر نہیں آیا، لیکن خون 25 دن سے مسلسل آرہا ہے۔  موجودہ صورت میں پاکی اور ناپاکی کے حوالے سے کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ  خاتون کا حمل ساقط ہونے کے بعد آنے والے خون اور اس سے پہلے آنے والے ایام کے درمیان پندرہ دن یا اس سے زیادہ پاکی کے ایام گزرے ہیں تو اس خاتون کی ماہواری کی عادت  کے مطابق عادت کے ایام حیض شمار ہوں گے، اور  عادت کے ایام سے زائد ایام جن میں خون جاری رہا،  استحاضہ شمار ہوں گے، جن میں وہ نماز و دیگر تمام عبادات کی اہل ہوں گی، حیض کے ایام ختم ہونے کے بعد غسل لازم ہے، تاہم اس کے بعد ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد  نیا وضو کرنا ضروری ہوگا، جس کے بعد اس نماز کے وقت میں فرض و نوافل، اور تلاوت کلام مجید کرنا چاہیں، تو وہ کرسکتی ہیں، بشرطیکہ وضو ٹوٹنے کے دیگر اسباب میں سے کوئی سبب پیش نہ آئے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200922

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں