
کیا سنی العقیدہ لڑکی کا کسی شیعہ لڑکے سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟اگر نہیں تو اس شادی،نکاح میں شرکت کرنے والوں کے بارے میں ہمارا دین اسلام کیا کہتا ہے؟اور کیا ایسے لوگوں سے کوئی لین دین رکھنا یا تحائف کا تبادلہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اگر کوئی شیعہ قرآنِ مجید میں تحریف کا عقیدہ رکھتا ہو، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (نعوذباللہ) خدا مانتا ہو، یا حضرت جبرئیل امین علیہ السلام سے وحی پہنچانے میں غلطی کا قائل ہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتا ہو، یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہو، یا ان کے علاوہ کسی بھی کفریہ عقیدے کا حامل ہو تو ایسے عقائد اسلام کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ اس بنا پر ایسا شخص دائرۂ اسلام سے خارج شمار ہوگا، اور اس کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح جائز نہیں ہوگا، نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا۔
ایسے نکاح میں جانتے بوجھتے شرکت کرنے والوں پر گناہ کی مجلس میں شرکت کرنے کا وبال ہوگا۔ مسلمانوں کو ایسی تقریب اور ایسی تقریب منعقد کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
البتہ اگر وہ اپنے ان باطل عقائد سے سچے دل کے ساتھ توبہ کرے ، اور ان عقائد سے صراحت کے ساتھ براءت کا اظہار کرے تو مذکورہ لڑکے سے نکاح جائز ہوگا۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 143101200194
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن