بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1445ھ 09 دسمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

اسماعیلی فرقہ کے بنیادی عقائد اور ان کا حکم


سوال

اسماعیلی فرقہ  کے عقائد کے بارے میں معلومات در کار  ہیں،نیز ان کے  کافر ہونے کے بارے میں فتوی درکار ہے۔

جواب

’’ اسماعیلہ‘‘  فرقہ شیعہ   کی ایک شاخ ہے ،اسماعیلیہ کے عقائد شیعہ ہی کی طرح بلکہ ان سے بھی آگے ہیں ،یہ فرقہ اسلام سے متصادم عقائد  کی وجہ سے دائرہ اسلام سےخارج اور کافر ہیں ۔چنانچہ ان کے بنیادی عقائد مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔عقیدہ امامت:

اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام ’’مبعوث من اللہ ‘‘(اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے ہوئے ) ہوتے ہیں ،ایسے ہی ’’ ائمہ  معصومین ‘‘ بھی  ،یہ عقیدہ تو عام شیعہ فرقہ کا ہے ،آغاخانی اسماعیلی  اپنے ’’امام حاضر ‘‘ کو صر ف معصوم ہی نہیں مانتے بلکہ یہ بھی مانتے ہیں ہیں ان کا امام حاضر ہے ،خدا کا مظہر ہے ،خدا تعالی  اپنی تما م الہی طاقتوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے امام حاضر میں حلول کرتا ہے ،اس لیے ان کے نزدیک امام حاضر ہی خدا ہے وہی مستحق دعا  و عبادت ہے ۔

۲۔بغض صحابہ :

دوسرا بڑا عقیدہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغص و عداوت ہے ، ان کے  نزدیک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین ماسوائے حضرات مقداد ،ابوذرغفاری اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور ان تین حضرات نے بشمول  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طوعا و کرہا  ایک مرتد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی ۔(العیاذ باللہ )

۳۔تحریف قرآن :

ان کے نزدیک موجودہ قرآن  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا تحریف کردہ ہے ۔(العیاذ باللہ ) اور اصلی قرآن ائمہ کے پاس   منتقل ہوتارہا ہے اور اب امام مہدی کے پاس ہے ،اس کے چالیس  پارے ہیں وہ ایک غار ’’ سر من راہ ‘‘ میں اس قرآن کو لیے بیٹھے ہیں ،اپنے ظہور کے بعد اس کو لائیں گے اور نافذ کریں گے۔(مسستفاد از فتاوی بینات،ص:۱۸۸،۱۸۹ )

مزید تفصیل کے لیے   ،ڈاکٹر زاہد علی کی تالیف ’’ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام ‘‘ کا مطالعہ کرلیں ۔

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144311101327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں