بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

اسلامی سزائیں


سوال

سوال نمبر 1:کسی بھی شخص کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ تک بلا اجازت رسائی کی اسلامی سزا کیا ہے؟

سوا ل نمبر ۲:اہم سرکاری معلومات تک بلا اجازت رسائی کی اسلامی سزا؟

سوال نمبر ۳:کسی بھی شخص یا سرکاری اہم معلومات یا ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی اسلامی سزا ؟

سوال نمبر۴:کسی کا ڈیٹا بلا اجازت کاپی کرنے کی سزا؟

سوال نمبر ۵:جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی اسلامی سزا؟

سوال نمب۶:الیکترونک جعل سازی کی سزا ؟

سوال نمبر ۷:دھوکہ دینے کی سزا کیا ہے؟

سوال نمب۸:سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء کی سزا کیا ہے؟

سوال نمب ۹: کسی کی شہرت کے خلاف غلط معلومات پھیلانا؟

سوال نمبر ۱۰:کسی کی فحش ویڈیو وائرل کرنے کی سزا؟ اگر جھوٹی ہو تو کیا سزا اور سچی ہو تب کیا سزا ہوگی؟

سوال نمبر۱۱: بچوں کے ساتھ نازیبا تصاویر اور ویڈیو پھیلانے کی سزا ؟

سوال نمبر۱۲: آن لائن احمق بنانا؟

سوال نمبر۱۳:وائرس زدہ کود پھیلانا؟

جواب

واضح رہے کہ اسلامی  سزا تین قسم کی ہیں  حدود،قصاص اور تعزیر۔

۱)حدود  ان سزاوں کو کہا جاتا ہے جو اللہ  کا حق ہیں اور اللہ کی طرف سے مخصوص گناہوں اور جرائم پر طے شدہ ہیں  اور ثابت  ہونے کے بعد ان سزاوں کو معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں مثلا زنا،مخصوص قیمت کی اشیاء کی چوری،شراب پینا،زنا کی تہمت لگانا وغیرہ۔

۲)قصاص کا مطلب یہ ہے کہ قتل کے بدلہ سزا کے طور پر قاتل کو قتل کیا جائے یا کسی مخصوص اعضاء  کے ضائع کرنے پر ضائع کرنے والے کے بھی اس عضو کو ضائع کیا جائے۔یہ سزا چونکہ مقتول یا مجروح شخص کا حق ہوتی ہے اس لیے صاحب حق کو معاف کرنے کی بھی اجازت ہے۔

۳)تعزیر:وہ جرائم یا گناہ جس کے متعلق شرع میں کوئی سزا منقول نہیں ہے شریعت حاکم وقت اور ان  کے نائبین کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ جرم اور مجرم کی کیفیت کو دیکھ کر تنبیہ کی خاطر کسی بھی مناسب سزا کا اس مجرم پر اجراء کریں۔

چونکہ  سوال میں مذکور جتنے جرائم  اور گناہ ہیں ان کے لیے کوئی مخصوص سزا شرع میں متعین نہیں تو حاکم وقت یا اس کے نائبین  کو اس بات کا اختیار ہے جرم کی شدت کو دیکھ کر کوئی مناسب سزا ان  جرائم پر جاری کریں اور حاکم یا ان کے نائب جو سرعی دائرہ میں رہتے ہوئے جو سزا متعین کریں گے وہ شرعی سزا کہلائی گی۔لہذا ان سزاؤں کا فیصلہ حکومت وقت کے ہاتھ میں ہے اور حکومت اور قاضی پاکستان کے آئن میں موجود  تعزیرات  کے اصول  کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ ان جرائم کے ارتکاب کرنے والا شخص عند اللہ جھوٹ،فحاشی پھیلانے،چوری، دھوکا دہی،مسلمان کی آبرو ریزی،ملک کے ساتھ غداری،بہتان  باندھنے  اور ایذاء رسانی جیسے بڑے بڑے گناہوں کا مرتکب ہوگا اور آخرت کے سخت عذاب کا مستحق ٹھرے گا۔

الفتاوى الهندية (2/ 142)

والحد في الشريعة العقوبة المقدرة حقا لله تعالى حتى لا يسمى القصاص حدا لما أنه حق العبد ولا التعزير لعدم التقدير كذا في الهداية

الموسوعة الفقهية الكويتية (33/ 259)

وفي الاصطلاح: القصاص أن يفعل بالفاعل الجاني مثل ما فعل

الفتاوى الهندية (2/ 167)

(فصل في التعزير) وهو تأديب دون الحد ويجب في جناية ليست موجبة للحد كذا في النهاية. وينقسم إلى ما هو حق الله وحق العبد. والأول يجب على الإمام ولا يحل له تركه إلا فيما إذا علم أنه انزجر الفاعل قبل ذلك ويتفرع عليه أنه لا يجوز إثباته بمدع شهد به فيكون مدعيا شاهدا إذا كان معه آخر كذا في النهر الفائق.

الفتاوى الهندية (2/ 167)

التعزير قد يكون بالحبس وقد يكون بالصفع وتعريك الأذن وقد يكون بالكلام العنيف وقد يكون بالضرب وقد يكون بنظر القاضي إليه بنظر عبوس كذا في النهاية وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 3029)

وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا. وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وما يزال الرجل يكذب -[1358]- ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا» . متفق عليه.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 3032)
 وعن أبي هريرة - رضي الله عنه أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: " «أتدرون ما الغيبة؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم. قال: " ذكرك أخاك بما يكره ". قيل: أفرأيت إن كان في أخي ما أقول؟ قال: " إن كان فيه ما تقول فقد اغتبته، وإن لم يكن فيه ما تقول فقد بهته» 

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (5/ 163)

قوله تعالى إن الذين يحبون أن تشيع الفاحشة في الذين آمنوا أبان الله بهذه الآية وجوب حسن الاعتقاد في المؤمنين ومحبة الخير والصلاح لهم فأخبر فيها بوعيد من أحب إظهار الفاحشة والقذف والقول القبيح للمؤمنين وجعل ذلك من الكبائر التي يستحق عليها العقاب وذلك يدل على وجوب سلامة القلب للمؤمنين كوجوب كف الجوارح والقول عما يضربهم۔فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144108200302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں