بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

اسلامی میوچل فنڈز میں پیسے انویسٹ کرنے کی پوری تفصیل


سوال

کیا اسلامی میوچل فنڈز میں پیسے انویسٹ کرنا حلال ہے،یہ ہم سے پیسے لیتے ہیں اور ایسی کمپنیوں میں انویسٹ کرتے ہے، جو شریعت کے مطابق ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ مروجہ اسلامی میوچل فنڈز کے طریقہ کار کا خلاصہ یہ ہے کہ :
انویسٹر بطور مؤکل کے اپنی رقم فنڈز والوں کو پیش کرتا ہے۔ فنڈز والے انویسٹر کی رقم اور اس کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں میں سے کسی ایک شعبہ کی طرف اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔

فنڈز والے اس کی رقم کو بطور وکیل کے کل پانچ مدات میں لگاتے ہیں:
(1):-اسٹاک ایکسچینج
(2):-اسلامی بینکوں کے منافع بخش اکاؤنٹس
(3):-گورنمنٹ کے صکوک
(4):-پرائیویٹ کمپنیوں کے صکوک
(5):-سونا اور چاندی کی مارکیٹ
اس خدمت کے عوض یہ ادارے فیس وصول کرتے ہیں۔

(بحوالہ فتوی نمبر: ۸۱۴۷، جاری شدہ از دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، مورخہـ:۱۳-۰۴-۱۴۳۸ھ،۲۰۱۷-۰۱-۱۲ء )

ان اداروں میں سرمایہ کاری کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ اسلامی بینکو ں کے منافع بخش اکاؤنٹس، اور صکوک میں سرمایہ کاری کرنادرست نہیں، اس لیے کہ اس میں ایسے طریقوں اور حیلوں کو استعمال کیا جاتا ہے جن کو اسلامی کہنا یا سود سے پاک کہنا درست نہیں۔
البتہ پہلی مد جس میں کہ یہ ادارہ اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرکے شیئرز کی خرید و فروخت کرتا ہے، اس میں کاروبار کرنے کے لیے شیئرز کے کاروبار کے سلسلے میں جو شرائط بیان کی جاتی ہیں ان کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔

 جن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے،وہ  دلائل کے ساتھ ذیل میں بیان کی جاتی ہیں:

1-  جس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت کی جارہی ہو، خارج میں اس کمپنی کا وجود آچکا  ہو، صرف کاغذی طور پر رجسٹرڈ نہ ہو؛ یعنی اس کمپنی کے کل اثاثے نقد کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ اس کمپنی نے اپنے کچھ جامد اثاثے بنا رکھے ہوں، جیسے کمپنی کے لیے بلڈنگ بنالی ہو، یا زمین یا مشینری خرید لی ہو یا اس کے پاس تیار یا خام مال موجود ہو۔

البحر الرائق میں ہے:

"‌وأما ‌شرائط ‌المعقود ‌عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم ... وخرج بقولنا وأن يكون ملكا للبائع ما ليس كذلك فلم ينعقد بيع ما ليس بمملوك له، وإن ملكه بعده."

(كتاب البيع، شرائط النفاذ، ج:5، ص:279/280، ط:دار الکتب الإسلامی )

2- کمپنی کا  سرمایہ  جائز و حلال ہو، اور اس کے شرکاء میں سودی کاروبار کرنے والے اداروں یا  افراد کا سرمایہ شامل نہ ہو، یعنی وہ شیئرز نہ تو کسی بینک کے ہوں، اور نہ کسی انشورنس کمپنی کے ہوں، اور نہ ہی اس کمپنی میں بینک، یا انشورنس یا جوا یا شراب یا کسی اور حرام چیز کا کاروبار کرنے والے اداروں کا سرمایہ شامل ہو۔

3- اس کمپنی نے  بینک سے سودی قرضہ نہ لیا ہوا ، وجہ اس کی یہ ہے کہ کمپنی کے ذمہ داران تجارت و سرمایہ کاری کرنے میں  شیئر ہولڈرز کے  شرعًا وکیل ہوتے ہیں،  جس طرح سے  خود  سود پر قرضہ لینا جائز نہیں اسی طرح کسی کو اس کام کے لیے وکیل بنانا بھی جائز نہیں۔

الفقه الإسلامي و ادلته میں ہے:

"وأما الموكل فيه (محل الوكالة): فيشترط فيه ما يأتي: ....

أن يكون التصرف مباحاً شرعاً: فلا يجوز التوكيل في فعل محرم شرعاً، كالغصب أو الاعتداء على الغير."

(کتاب الوكالة، شروط الوكالة، الموكل فيه، ج:4، ص:2999، ط:دار الفكر)

4- کمپنی کا کاروبار جائز و حلال ہو، یعنی وہ کمپنی  حرام اشیاء کے کاروبار نہ کرتی ہو، اور اس کا کاروبار نہ صرف حلال اشیاء پر مشتمل ہو، بلکہ شرعی اصولوں کے مطابق و شرائط فاسدہ وغیرہ سے پاک ہو،  جوئے، سٹے، شراب، سودی کاروبار میں ملوث نہ ہو، اس لیے کہ جس طرح حرام کاروبار خود کرنا ناجائز ہے، اسی طرح حرام کاروبار میں کسی اور کی معاونت کرنا، یا کسی کو اپنے وکیل بنانا بھی ناجائز ہے۔

فقه المعاملات میں ہے:

"يشترط في الموكل به - لصحة الوكالة - ثلاثة شروط:

(أحدها) أن يكون إتيانه سائغًا شرعًا.

وعلى ذلك فلايصح التوكيل بالعقود المحرمة والفاسدة والتصرفات المحظورة شرعًا؛ لأنّ الموكل لايملكه، فلايصحّ أن يفوضه إلى غيره، و لأن التوكيل نوع من التعاون، و التعاون إنما يجوز على البر والتقوى لا على الإثم والعدوان."

(کتاب الوكالة، المؤكل به، ج:1، ص:1067)

5- شیئرز کی خرید و فروخت میں، خرید و فروخت کی تمام شرائط کی پابندی ہو۔ (مثلاً: شیئرز خریدنے کے بعد وہ مکمل طور پر خریدار کی ملکیت میں  آجائیں، اس کے بعد انہیں آگے فروخت کیا جائے، خریدار کی ملکیت مکمل ہونے اور قبضے سے پہلے شیئرز آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا، اسی طرح فرضی خریدوفروخت نہ کی جائے)،اور آج کل سی ڈی سی میں نام پر آنے کے بعد قبضہ شمار کیا جائے گا۔

الجوهرة النيرة میں ہے:

"‌ومن ‌اشترى ‌شيئا ‌مما ‌ينقل ‌ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه) مناسبة هذه المسألة بالمرابحة والتولية أن المرابحة إنما تصح بعد القبض ولا تصح قبله."

(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية،ج:1، ص:210، ط:المطبعة الخيرية)

6- حاصل شدہ منافع کل کا کل شیئرز ہولڈرز میں تقسیم کیا جاتا ہو، (احتیاطی) ریزرو کے طور پر نفع کا کچھ حصہ محفوظ نہ کیا جاتا ہو، پس جو کمپنی کل منافع کو تمام شیئر ہولڈرز میں تقسیم نہ کرتی ہے، بلکہ منافع میں سے کچھ فیصد مثلاً 20 فیصد مستقبل کے ممکنہ نقصان کے خطرہ کے پیشِ نظر اپنے پاس محفوظ  کرلیتی ہو، اور منافع کا بقیہ 80 فیصد  شیئر ہولڈرز میں تقسیم کرتی ہو، اس کمپنی کے شیئرز خریدنا جائز نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌أما ‌شركة ‌العقود ‌فأنواع ‌ثلاثة: شركة بالمال، وشركة بالأعمال وكل ذلك على وجهين: مفاوضة وعنان، كذا في الذخيرة. وركنها الإيجاب والقبول ... وشرط جواز هذه الشركات كون المعقود عليه عقد الشركة قابلا للوكالة، كذا في المحيط وأن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع. وحكم شركة العقد صيرورة المعقود عليه وما يستفاد به مشتركا بينهما، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الشركة، الباب الأول في بيان أنواع الشركة، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ج:2، ص:301/302، ط:دار الفكر)

7-  خریدے گئے شیئر کی وصولی اور اس کی قیمت کی ادائیگی دونوں ادھار نہ ہوں، یعنی مثال کے طور پر خریدار زبانی شیئر آج کی قیمت پر خریدے، اور قیمت کی ادائیگی اور شیئر کی وصول ایک ہفتہ بعد طے کرے، تو صورت بھی جائز نہیں۔

جواہر الفتاوی میں ہے:

"یہ خرید و فروخت دونوں طرف سے ادھار ہے، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔

نهي رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم عَن بيع الكالئ بالكالئ.

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کی بیع ادھار سے منع  فرمایا ہے۔

اس واسطے مذکورہ طریقے پر شیئرز کی خرید و فروخت نا جائز ہے۔"

(ج: 3 ، ص:70، ط: اسلامی کتب خانہ)

8- شیئرز کی خرید و فروخت میں جوے کی صورت نہ ہو، بعض مرتبہ شیئر کے خریدار کا مقصد ڈیفرینس برابر کرنا ہوتا ہے،  یعنی اس کا مقصد کمپنی کا حصہ دار بن کر سالانہ منافع حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مقصد کم قیمت پر خرید کر قیمت بڑھتے ہی فروخت کرنا ہوتا ہے، اس غرض سے شیئرز کی خرید و فروخت کرنے  والے شیئرز پر شرعی قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کر دیتے ہیں، جس میں اصل رقم کے بڑھنے اور ڈوبنے دونوں کا خطرہ ہوتا ہے، جسے شریعت کی اصطلاح میں جوا کہا جاتا ہے۔

أحكام القران للجصاص میں ہے:

"‌وحقيقته ‌تمليك ‌المال ‌على ‌المخاطرة. وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار."

(سورۃ المائدة، ‌‌مطلب: في تأويل ما ورد عنه عليه السلام من أنه۔۔۔الخ،  باب تحريم الخمر، ج:4، ص:127، ط:دار احياء التراث العربي)

وفیہ ایضاً:

"‌ولا ‌خلاف ‌بين ‌أهل ‌العلم ‌في ‌تحريم ‌القمار وأن المخاطرة من القمار; قال ابن عباس: إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال، والزوجة، وقد كان ذلك مباحا إلى أن ورد تحريمه. وقد خاطر أبو بكر الصديق المشركين حين نزلت {الم غلبت الروم} [الروم: 1 -2] وقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "زد في الخطر وأبعد في الأجل" ثم حظر ذلك ونسخ بتحريم القمار. ولا خلاف في حظره."

(سورۃ البقرة: 219، باب تحريم الميسر، ج:2، ص:11، ط:دار احياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144502101808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں