بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

اسلام سے قریب کرنے کی نیت سے کرسمس کی مبارک باد دینا / (Merry Christmas) کہنا


سوال

اپنے عیسائی دوست( جس سے دوستی کا مقصد دین کی طرف مائل کرنا ہو) کو ہمدردی کے طور پر تحائف پیش کرنا کیسا ہے ؟ کیا انہیں میری کرسمس (Merry Christmas) کہہ سکتے ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اپنا دنیوی خرچ کرتے ہوئے کسی غیر مسلم کو اسلام کے قریب کرنے کی کوشش کرنا مستحسن عمل ہے مثلاً اپنا کوئی حق چھوڑ دینا، اپنا وقت اسے دینا، اس سے تحائف کا لین دین رکھنا وغیرہ، لیکن اپنا دینی نقصان کرتے ہوئے کسی کو دین کے قریب کرنے کی کوشش کرنا سمجھداری نہیں ہے بلکہ اس میں آدمی کا اپنا دینی نقصان ہے۔

صورت مسئولہ میں کسی عیسائی دوست کو دین اسلام سے قریب کرنے کی نیت سے اسے تحائف دینا جائز ہے۔ لیکن ان کے کسی خاص  مذہبی تہوار پر، مثلاً کرسمس پر ان سے تحائف کا لین دین کرنا، یا انہیں کرسم کی مبارک باد دینا وغیرہ، اس سے اجتناب کرنا لازم ہے کیونکہ ان میں کفار کے ساتھ تشبہ وغیرہ جیسے مفاسد ہیں۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (22 / 171):

هذا باب في بيان مندوبية المداراة وهي لين الكلمة وترك الإغلاظ لهم في القول، وهي من أخلاق المؤمنين، والمداهنة محرمة، والفرق بينهما أن المداهنة هي أن يلقى الفاسق المعلن بفسقه فيؤالفه ولا ينكر عليه ولو بقلبه، والمداراة هي الرفق بالجاهل الذي يستتر بالمعاصي واللطف به حتى يرده عما هو عليه، وقال بعضهم: المداراة مع الناس بغير همز، وأصله الهمز لأنه من المدافعة والمراد به الدفع بالرفق. قلت: قوله: لأنه من المدافعة، غير صحيح بل يقال من الدرء وهو الدفع، وقال ابن الأثير: المداراة في حسن الخلق والصحبة غير مهموز، وقد يهمز.

فتح الباري لابن حجر (10 / 454):

والفرق بين المدارة والمداهنة أن المداراة بذل الدنيا لصلاح الدنيا أو الدين أو هما معا وهي مباحة وربما استحبت والمداهنة ترك الدين لصلاح الدنيا

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 624):

فإن التشبه بهم لا يكره في كل شيء، بل في المذموم وفيما يقصد به التشبه، كما في البحر.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144204200765

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں