بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اسلام میں ٹریڈنگ کا حکم


سوال

ٹریڈنگ اسلام میں جائز ہے یا حرام؟

جواب

ٹریڈنگ  کے معنی  تجارت یعنی خرید و فروخت کے ہوتے ہیں،پس حلال چیزوں کی  خرید و فروخت  اسلام میں  جائز ہے، بشرطیکہ کے خرید و فروخت کے صحیح ہونے کی رعایت رکھی جائے، اور حرام و ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت اسلام میں ناجائز و حرام ہے،لہذا ٹریڈنگ کا طریقہ لکھ کر دارلافتاء سےدوبارہ رجوع کریں۔

النهاية في شرح الهداية میں ہے:

" وأما ركنه فالإيجاب والقبول على ما يجيء.

وأما شرطه فأنواع منها في العاقد، وهو أن يكون عاقلا مميزا، ومنها في الآلة وهو أن يكون بلفظ الماضي، ومنها في المحل وهو أن يكون مالا متقوما، وأن يكون مقدور التسليم، ومنها التراضي، ومنها شرط النفاذ، وهو الملك والولاية."

( كتاب البيوع، ركن البيع وشروطه، ١٣ / ٧، ناشر: مركز الدراسات الإسلامية بكلية الشريعة والدراسات الإسلامية بجامعة أم القرى)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144407101326

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں