بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اسلام کو گالی دینے والے شخص کے ایمان و نکاح کا حکم


سوال

میں اپنے خاوند کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اور میری بیٹی کے رشتے کی بات ہو رہی تھی، اور میں نے اپنے خاوند کو کہا کہ شریعت یہ کہتی ہے اور اسلام بھی یہ کہتا ہے کہ رشتہ کرتے ہوئے بیٹی اور بیٹے کی مرضی کو پوچھیں، شریعت اس چیز کی اجازت دیتی ہے، تو آگے سے میرے خاوند نے کہا کہ آپ کا اسلام وڑ گیا ماں کی۔۔۔۔۔ میں۔

نوٹ: خالی جگہ پر انہوں نے عورت کے مخصوص حصے کا نام لیا تھا، کیا یہ بات کرنے کے بعد میرا خاوند دائرہ اسلام میں رہا ہے اور میرا نکاح اس کے ساتھ موجود ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام کو برا بھلا کہنا، گالی دینا کفر ہے، لہذا اگر کوئی شخص اسلام کو گالی دے،  تو اس سے وہ شخص کافر ہو جاتا ہے، اس شخص پر توبہ و استغفار اور اپنے  ایمان کی تجدید کے ساتھ ساتھ نکاح کی بھی تجدید کرنا لازم ہوتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کا اسلام کو مذکورہ طریقے پر گالی دینے کی صورت میں شوہر دائرہ اسلام سے خارج ہوچکاہے، اور نکاح بھی ختم ہوچکاہے، سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ توبہ و استغفار کرے اور  اپنے  ایمان کی تجدید کرتے ہوئے نکاح کی بھی تجدید کرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌رجل ‌قال ‌للآخر مسلمانم فقال له لعنت بروتووبر مسلماني تو يكفر كذا في الخلاصة."

(كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام، ج: 2، ص: 257، ط: دار الفكر)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

سوال:اگر کوئی شخص اہل اسلام اور مذہب اسلام کی توہین کرے اور برے الفاظ بولے اور گالی گفتا ر دے وے، ایسے شخص کی نسبت کیا حکم ہے؟

جواب:اس میں کچھ شک و شبہ نہیں ہے کہ جو شخص دین اسلام کو برا کہے اور گالیاں دے، وہ اسلام سے خارج ہے، اس کو لازم ہے کہ توبہ کرے اور تجدید اسلام کرے اور تجدید نکاح کرے، ورنہ اس سے اہل اسلام کو متارکت اور علیحدگی فرض ہے۔

(کتاب السیر، باب چہارم: احکام مرتد، ج: 12، ص: 214، ط: دار الاشاعت)

تتمہ احسن الفتاوی میں ہے:

سوال:ہمارے دیہی علاقوں میں یہ وباء عام ہے کہ غصہ کی حالت میں دوسرے مسلمان بھائی کو مذہب و ایمان نیز پیر و مرشد کی غلیظ گالی دی جاتی ہے، ویسے گپ شپ میں بھی یہ گالی دی جاتی ہے، بلکہ یہ گالی تکیہ کلام کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ مذہب و ایمان کو گالی دینا کیسا ہے اور ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟

جواب:ایمان و اسلام کو گالی دینا کفر ہے، ایسی کفریات سے احتراز واجب ہے، ایسے شخص پر توبہ فرض ہے، توبہ اور تجدید ایمان کے بعد تجدید نکاح بھی کرے۔

(کتاب الایمان و العقائد، ج: 10، ص: 31، ط: الحجاز علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101251

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں