بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اسلام کا اقرار کرنے والا مسلمان ہوگا یا نہیں؟


سوال

میری زوجہ کی بہن نے ایک عیسائی مرد سے شادی کی ہے، وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے، نیز عیسائیت  اور اس کے شعار سے توبہ کرچکا ہے،لیکن اس کے پاس  قبول اسلام کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔

تو اب پوچھنا یہ ہے کہ:

1۔میری زوجہ کی بہن کا جو کہ مسلمان ہے،   ایک عیسائی مرد سے نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟

2۔ اسی طرح میری زوجہ کو میری زوجہ کی مذکورہ بہن بھڑکاتی ہے کہ؛ تم اپنے شوہر سے خلع  لے لو ،تو کیا میری سالی کا ایساکرنا ٹھیک ہے ؟

3۔میری بیوی جب اپنے بہن کے پاس جاتی ہے ،تو وہ میری بیوی کو روک دیتی ہے، تو کیا میری بیوی کا اس کے گھر جانا اور  کھانا کھانا  ٹھیک ہے ؟جب کہ اس کا شوہر عیسائی ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی عاقل بالغ شخص مسلمان ہونے کا اقرار کرے، تو وہ شرعاً مسلمان ہی کہلائے گا، اگر چہ اس کے پاس قبول اسلام کی  سند  موجود نہ ہو، لہذا صورت ِمسئولہ میں سائل کا ہم زلف   دین و اسلام کو مانتا ہے، عیسائیت اور اس کے عقائد و اعمال  سے توبہ  اور براءت کرتا ہے، اور عیسائیت کے شعار کو نہیں اپنا تا تو  وہ شرعاًمسلمان ہے۔

تمہید کے بعد سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔ سائل کی سالی نے جس شخص سے نکاح کیا ہے وہ شرعاً مسلمان ہے، لہذا ان دونوں کا نکاح شرعاً درست ہے۔

2۔ سائل کی سالی کا  سائل کی بیوی کو بلاوجہ   خلع کے لیے بھڑکانا ناجائز  اور گناہ ہے، نیز میاں بیوی کے درمیان علیحدگی اللہ تعالی کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔

3۔ سائل کی بیوی  کو اس کی بہن کا سائل کی اجازت کے بغیر  اپنے پاس روکنا شرعاً ناجائز ہے، البتہ سائل کی بیوی کے لیے اپنی بہن کے گھر  سائل کی اجازت سے جانا اور وہاں کا کھانا،  کھا نا آمدن حلال ہونے کی صورت میں جائز ہے۔

الخراج لابی یوسف میں ہے:

"ومعنى حديث النبي عليه الصلاة والسلام: أي من أقام على تبديله؛ ألا ترى أنه قد حرم دم من قال لا إله إلا الله وماله، وهذا يقول لا إله إلا الله؛ فكيف أقتله، وقد نهى صلى الله عليه وسلم عن قتله؟ "، وهو عليه الصلاة والسلام يقول لأسامة: "يا أسامة أقتلته بعد قول لا إله إلا الله؟ "؛ فقال أسامة: إنما قالها فرقا من السلاح1 فقال "هلا شققت عن قلبه؟ "؛ فأعلمه أنه ليس يعلم ما في قلبه، وأن قتله لم يكن مطلقا له بتوهمه أنه؛ إنما قالها فرقا من السلاح.

قال أبو يوسف: حدثنا الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة قال: "بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فصبحنا الحرقات من جهينة؛ فأدركت رجلا فقال: لا إله إلا الله، فطعنته فوقع في نفسي من ذلك، فذكرته للنبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم "أقال لا إله إلا الله وقتلته؟ " قال فقلت: يا رسول اله غنما قالها فرقا من السلاح، قال: "فهلا شققت عن قلبه حين قال حتى تعلم أقالها فرقا من السلاح أو لا؟ " فما زال يكررها حتى تمنيت أني أسلمت يومئذ.

قال: وحدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله؛ فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله".

قال: وحدثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله."

(‌‌فصل: "في حكم المرتد عن الإسلام" والزنادقة،196/197، ط:المكتبة الأزهرية للتراث)

معالم السنن میں ہے:

"فيه من الفقه أن الكافر إذا تكلم بالشهادة وإن لم يصف الأيمان وجب الكف عنه والوقوف عن قتله سواء كان بعد القدرة عليه أو قبلها."

وفي قوله ‌هلا ‌شققت عن قلبه دليل على أن الحكم إنما يجري على الظاهر وإن السرائر موكولة إلى الله سبحانه."

(‌‌كتاب الجهاد،باب على ما يقاتل المشركون،270/2، ط:المطبعة العلمية بحلب)

المفاتیح فی شرح المصابیح میں ہے:

"وفي قوله: (‌هلا ‌شققت عن قلبه) دليل على أن الحكم إنما يجري على الظاهر، وأن السرائر موكولة إلى الله عز وجل."

(كتاب القصاص،190/4، ط:دار النوادر)

مشكوة المصابيح ميں هے:

"وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌أبغض ‌الحلال إلى الله الطلاق» . رواه أبو داود."

(كتاب النكاح ،باب الخلع و الطلاق ،ج:2،ص:978،ط:المكتب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508101352

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں