بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اسلام میں وطن سے محبت کی حیثیت


سوال

اسلام میں وطن سے محبت کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

وطن سےمحبت ایک فطری چیزہے،جوممدوح صفت ہے،نیزاسلام میں وطن سےمحبت جائزہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ سےمحبت کرنےسےوطن سےمحبت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے، تاہم یہ بات واضح رہےکہ  وطن سےمحبت نہ جزو ایمان  ہے اور نہ اسلامی اخوت سےبالاترہے،  جیساکہ عوام میں مشہورہےکہ  "حب الوطن من الإیمان " جب کہ محدثین نے اسے موضوع قراردیاہے۔

سنن ترمذی میں ہے:

"عن عبد الله بن عدي بن حمراء، قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم واقفا على الحزورة فقال: والله إنك لخير أرض الله، وأحب أرض الله إلى الله، ولولا أني أخرجت منك ما خرجت. هذا حديث حسن صحيح غريب."

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کےموقع  حزورہ ٹیلہ پرکھڑےہوکرمکہ مکرمہ کومخاطب کرکےفرمایاتھا:اللہ کی قسم !(اے مکہ) بے شک تو سب سے بہترین اللہ کی زمین  ہے اور اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین ہے، اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی میں کبھی نہ نکلتا۔‘‘

(كتاب المناقب،باب فی فضل مکہ،ج:5،ص:722،ط:مصطفی الباب الحلبی)

فتح الباری میں ہے:

"عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا قدم من سفر فنظر إلى جدرات المدينة أوضع ناقته وإن كان على دابة حركها من حبها.
وفي الحديث دلالة على فضل المدينة وعلى مشروعية حب الوطن والحنين إليه."

(قوله: باب قول الله تعالى وأتوا البيوت من أبوابها،ج:3،ص:621،ط:دار المعرفة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144511101962

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں