بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

اسکولوں کا داخلہ اور سالانہ فیس لینے کا حکم


سوال

اسکولوں میں سالانہ اور شروع میں داخلہ فیس لی  جاتی ہے اسکا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں محض داخلہ فیس لینا جائز نہیں، کیوں کہ داخلہ فیس لینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، اس لیے کہ یہ کسی چیز کے عوض میں نہیں ہے، تا ہم  اگر  داخلہ کی کار روائی، امتحان، فارم اور عملہ کی خدمات کے عوض اس کام کی جتنی عموماً اجرت بنتی ہے اتنی ہی لی جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

باقی سالانہ فیس سے مراد  یہ ہو کہ ہر مہینہ بچوں کو تعلیم دینے کے عوض فیس  وصول کی جائے یا اسی کو سالانہ طور پر وصول کیا جائے تو یہ جائز ہے۔  اور اگر ماہ وار فیس وصول کی جارہی ہو یعنی ہر ماہ بچے کی پڑھائی کی مقررہ فیس ہے تو ایسی صورت میں الگ  سالانہ فیس لینا درست نہیں ہے۔

البتہ امتحانات کے اخراجات کے لیے امتحانی فیس وصول کی جاسکتی ہے بشرط یہ ہے کہ شروع معاہدہ میں یہ نہ ہو  کہ ماہ وار فیس میں امتحانی اخراجات بھی شامل ہوں گے۔

بدائع الصنائع ميں هے :

"وأما ركن الإجارة، ومعناها أما ركنها فالإيجاب والقبول وذلك بلفظ دال عليها وهو لفظ الإجارة، والاستئجار، والاكتراء، والإكراء فإذا وجد ذلك فقد تم الركن."

(174/4، فصل فی رکن الاجارۃ ومعناھا،دار الكتب العلمية)

تبیین الحقائق میں ہے :

"‌المسلمون ‌على ‌شروطهم"، والصلح شرط، فلزمه الوفاء به حتى يثبت التحريم."

(194/3،کتاب الصلاح،ط:دار البشائر الإسلامية)

کفایت المفتی میں ہے:

’’داخلہ کی فیس تو کوئی معقول نہیں، ماہوار فیس لی جاسکتی ہے۔‘‘

(کتاب المعاش، ج:۷، ص:۳۱۳)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144310101312

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں