بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اشراق اور چاشت کا ابتدائی اور انتہائی وقت

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ   اشراق كا وقت كب ختم ہوتا ہے اور چاشت كا وقت كب شروع اور كب ختم ہوتا ہے؟

جواب

اشراق  کی نماز کا وقت  سورج نکلنے کے کم از کم دس منٹ بعد سے استواء الشمس( جب سورج عین سر پر آجائے) تک  ہے، البتہ اول وقت میں پڑھنا افضل ہے، چاشت   كی نماز ب کا افضل وقت  ایک  چوتھائی دن  گزرنے  کے بعد     سے   زوال تک رہتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ اشراق اور چاشت پڑھنے کا افضل وقت اگرچہ مختلف ہے، لیکن  دونوں نمازوں کے شروع ہونے اور ختم ہونے کا وقت ایک ہی ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) ندب (أربع فصاعداً في الضحى) على الصحيح من بعد الطلوع إلى الزوال، و وقتها المختار بعد ربع النهار."

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، 2/ 22، ط: سعید)

إعلاء السنن میں ہے:

"قال العلامة سراج أحمد في شرح الترمذي له: إن المتعارف في أول النہار صلاتان الأولی بعد طلوع الشمس وارتفاعہا قدر رمحٍ أو رمحین․ والثانیة عند ارتفاع الشمس قدر ربع النھار إلی ما قبل الزوال ویقال لہا صلاة الضحی واسم الضحی في کثیر من الأحادیث شامل لکلیہما․"

 (كتاب الصلاة، باب النوافل والسنن، فضل الأربع في أول النهار، 30/7، ط: كراتشي)

قتاوی رحیمیہ میں ہے: 

"چاشت کی نماز کا وقت آفتاب طلوع ہونے سے زوال تک ہے،  لیکن افضل اور مختار یہ ہے کہ ایک چوتھائی دن گزر نے کے بعد پڑھے۔"

(فتاویٰ رحیمیہ، کتاب الصلاۃ، سوال نمبر 99 ، 4/ 82 ، ط: دار الاشاعت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144311100677
تاریخ09-06-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں