بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

عشاء کب قضا ہوتی ہے؟


سوال

اگر عشاء کی ا ذان کے بعد نماز ادا کیے  بغیر سو جائیں تو کیا عشاء قضا ہوجائے  گی؟

جواب

عشاء کا انتہاءِ  وقت صبح صادق ہے ؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر صبح صادق سے پہلے عشاء ادا کرلی تو عشاء قضا شمار  نہیں ہوگی،   البتہ صبح صادق کے  بعد عشاء  کا وقت ختم ہوجاتا ہے اس وقت عشاء ادا کی تو  نماز قضا شمار ہوگی۔ 

واضح رہے کہ عشاء  ادا کرنے سے پہلے  بلاعذر سونا  مکروہ  ہے، نیز   آدھی رات کے بعد تک  عشاء کو  بغیر عذر مؤخر کرنا بھی مکروہ ہے؛  لہذا  عشاء کی اذان کے بعد  نماز سے  پہلے  سونے   اور  آدھی رات تک عشاء مؤخر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم اگر عشاء کی اذان کے بعد کسی کی آنکھ لگ گئی اور اس نے صبح صادق سے پہلے پہلے عشاء ادا کرلی تو وہ ادا ہی کہلائے گی، قضا نہیں ہوگی۔   حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلي الله عليه وسلم كان يكره النوم قبل العشاء. (رواه الستة في كتبهم و البخاري في باب ما يكره من النوم قبل العشاء)

قال الطحاوي: إنما يكره النوم قبلها لمن خشي عليه فوت وقتها أو فوت الجماعة فيها و اما من وكل نفسه الي من يوقظه فيباح له النوم.

( شامي كتاب الصلاة ١/٣٦٨)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200762

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں