بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عشاء کی نماز کا آخری وقت


سوال

کیا عشاء کی نماز کا وقت فجر کی نماز کے شروع ہونے تک ہے یا اس سے پہلے ہی قضا ہو جاتی ہے،  اگر ایسا ہے تو وقت کا تعین کیسے کیا جائے برائے مہربانی جواب سے مطلع فرمائیں؛ کیوں کہ اب تک میں یہی سمجھتا رہا ہوں کہ فجر تک ہے جب کہ ایک جگہ دوستوں کی محفل میں یہ بات سامنے آئی کہ آدھے وقت کے بعد قضاء ہو جاتی ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں عشاء کا آخری وقت  طلوعِ فجر تک باقی رہتا ہے،  البتہ شدید عذر کے بغیر آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے، اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لینی چاہیے؛ تاکہ کراہت نہ ہو۔  تاہم اگر کسی عذر  کی وجہ سے عشاء کی نماز میں تاخیر ہوگئی اور   طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لی تو وہ نماز ادا شمارہوگی، قضا شمار نہیں ہوگی۔ اور صبح صادق تک بھی عشاء کی نماز ادا نہیں کی تو قضا شمار ہوگی۔

ہماری ویب سائٹ پر بھی نمازوں کے اوقات معلوم کرنے کی سہولت موجود ہے، اس میں اپنا مطلوبہ شہر منتخب کرکے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے طے شدہ معیار کے مطابق نمازوں کے اوقات معلوم کرسکتے ہیں۔

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"وابتداء وقت صلاة العشاء والوتر منه أي من غروب الشفق على الاختلاف الذي تقدم إلى قبيل طلوع الصبح الصادق لإجماع السلف."

(کتاب الصلوۃ ص: 178 ط: دارالکتب العلمیة  بیروت ۔ لبنان)

فتح القدیر میں ہے:

"كما في العشاء يندب تأخيرها إلى ما قبل الثلث ويصليها إذ ذاك، فإن لم يفعل إلى النصف انتفى الندب وكان مباحا، وما بعده مكروه."

(کتاب الصلوۃ , باب المواقیت جلد 1 ص: 228 ط: دارالفکر , لبنان)

فقط وا للہ اعلم 


فتوی نمبر : 144407101090

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں