بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 رجب 1442ھ 27 فروری 2021 ء

دارالافتاء

 

عیسائی لوگوں کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟


سوال

کیا عیسائی لوگوں کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ کیوں کہ ہمارے ہاں کچھ عیسائی لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے اور ان کے ساتھ میرے دوست بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، میں اس بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہغیرمسلموں کے ساتھ کبھی کبھار کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں،  البتہ ان کے ساتھ مستقل طور پر کھانا پینا مکروہ ہے، ہاں ان کی مذہبی تقریبات میں شرکت اور وہاں کھانا کھانا، یا جس کھانے میں کوئی ناپاک چیز ہو وہ کھانا منع ہے؛  لہذا  صورتِ مسئولہ میں آپ کے دوست کا عیسائی مہمانوں کے  ساتھ کھانا  کھانا جائز ہے۔

 

فتاوی بزازیہ میں ہے:

"والأكل مع الكفار لو ابتلى به المسلم لابأس لو مرة أو مرتين، أما الدوام عليه يكره."

(الفتاوى البزازية، كتاب الكراهية، الفصل الثالث فيما يتعلق بالمناهي (6/ 359)، ط. رشيديه، كوئته، باكستان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200965

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں