بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

اس دور کا مجدد کون ہے؟


سوال

جس طرح حدیث میں ہے کہ ہر صدی میں مجدد آۓ گا جو دین کو اسی طرح پیش کرے گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا لہذا سوال یہ ہے کہ اس صدی میں مجدد کون ہے اور ایک مجدد کی پہچان کی کیا صورت ہے؟

جواب

"إن الله يبعث لهذ الأمة على رأس كل مئة سنة من يجدد لها دينها" مذکورہ حدیث میں "من یجدد "سے مراد وہ جماعت ہے جو   اہل افراط و تفریط  کی تحریفات، اہل ہوی کی تراشی ہوئی بدعات اور ناحق  مدعیوں کی تاویلات سے دین کو محفوظ رکھیں گے، اور اس کو اس کی بالکل اصلی شکل میں (جس میں  وہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آیا تھا )امت کے سامنے پیش کرتے رہیں گے، اور اس میں نئی روح پھونکتے رہیں گے، اسی کا م کا اصطلاحی عنوان تجدید دین ہے اور اللہ تعا لی اپنے جن بندوں سے یہ کام لے وہی مجددین ہیں ،البتہ کسی کا علی التعیین مجدد ہونا معلوم نہیں ہوا، علماء نے اپنے ظن و تخمین (اندازے)سےجن بعض علماء  کو محقق دیکھا انہی کو مجدد  ٹھہرایا ، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ ایک صدی میں  ایک ہی مجدد ہوگا یا ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں؟ تو اکثر کی رائے یہی ہے کہ ایک صدی میں ایک مجدد ہونا ضروری نہیں  باقی  اس صدی کا مجدد کون ہے؟ تو اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔

فیض القدیر میں ہے:

"المراد ‌هنا بدليل إضافة الدين إليهم في قوله (أمر دينها) أي ما اندرس من أحكام الشريعة وما ذهب من معالم السنن وخفي من العلوم الدينية الظاهرة والباطنة."

(جلد ۱ ص:۹ ط:المکتبة التجاریة الکبري۔مصر)

بذل المجہود میں ہے:

"(حدثنا سليمان بن داود المهري، نا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن شراحيل بن يزيد المعافري، عن أبي علقمة، عن أبي هريرة) - رضي الله عنه - (فيما أعلم، عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم -) كأن الراوي لم يجزم برفعه، أي شك فيه الرفع، هكذا قال المنذري . (قال: إن الله يبعث لهذه الأمة على رأس كل مئة سنة) أي انتهائه أو ابتدائه إذا قَلَّ العلم والسنَّة، وكثر الجَهْلُوالبدعة (من يجدد لها) (1) أي لهذه الأمة (دينَها) أي بيَّن السنَّة من البدعة، ويكثر العلم، ويعز أهله، ويقمع البدعهَ، ويكسر أهلها.

قال صاحب "جامع الأصول" (2): وقد تكلم العلماء في تأويله، وكل واحد أشار إلى العالم الذي هو في مذهبه، وحمل الحديث عليه، والأولى الحملُ على العموم، فإن لفظة "من" تقع على الواحد والجمع، ولا يختص أيضًا بالفقهاء، فإن انتقاع الأمة بهم وإن كان كثيرًا فانتفاعهم بأولي الأمر وأصحاب الحديث، والقُرَّاء والوعاظ والزهاد أيضًا كثير، إذ حفظُ الدين، وقوانينُ السياسة، وبثُ العدل وظيفة أولي الأمر، وكذلك القراء، وأصحاب الحديث ينفعون بضبط التنزيل والأحاديثِ التي هي أصولُ الشرع وأدلَّتُه، والوعاظ ينفعون بالوعظ والحث على لزوم التقوى، لكن المبعوث يشترط أن يكون مشارًا إليه في كل فن من هذه الفنون.

والأظهر عندي - والله أعلم - أن المراد بمن يجدد ليس شخصًا واحدًابل المراد به جماعة ، يجدد كل واحد في بلد في فن أو فنون من العلوم الشرعية ما تيسر له عن الأمور التقريرية أو التحريرية، ويكون سببًا لبقائه وعدم اندراسه وانقضائِه إلى أن يأتي أمر الله."

(کتاب الملاحم ، باب مایذکر فی قرن المائة جلد ۱۲ ص : ۳۳۵۔۳۳۷ ط : مرکز الشیخ ابی الحسن الندوی للبحوث و الدراسات الاسلامیة ، الهند )

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"والأظهر عندي والله أعلم أن المراد بمن يجدد ليس شخصا واحدا، بل المراد بهجماعة يجدد كل أحد في بلد في فن أو فنون من العلوم الشرعية ما تيسر له من الأمور التقريرية أو التحريرية."

(کتاب العلم جلد ۱ ص : ۳۲۱  ، ۳۲۲ ط : دارالفکر ، بیروت ۔لبنان)

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

"راس سر کو کہتے ہیں لہذا مجدد شروع صدی میں ہووے گا مگر جو شروع صدی ہے وہ آخر پہلی صدی کا بھی ہے بایں اعتبار اس کو کوئی آخر کہہ دیووے تو ہوسکتا ہے ورنہ جس صدی میں ہووے گا اس کی ابتداء میں ہووے گا تاکہ آخر تک تجدید کا اثر باقی رہے اور علامت اس کی یہی ہے کہ اس کی تقریر تحریر سے اور سعی اور کوشش سے بدعات رفع ہوویں سنت کا شیوع اور مردہ سنن کا احیاء ہووے اور احمد یا محمد ہونا اس کے نام میں ضرورنہیں نہ کسی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے اور ان کا علی التعیین جاننا محقق نہیں ہوا اپنے ظن و تخمین سے بعض علماء نے  جس کو عالم محقق دیکھامجدد اس کو ٹہرالیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمامی صدی اول پر عمر بن عبد العزیر رضی اللہ عنہ کو کہا  علی ہذا مگر کوئی محقق قول نہیں اور جلال الدین سیوطی نے کچھ اس میں لکھا ہے بندہ کے نزدیک وہ قول اسلم ہے جس نے یہ کہا کہ مجدد صدی کا ایک عالم ہونا ضروری نہیں ہر وقت میں دو چار دس ، بیس ، پچاس ہوگا۔ مجموعہ ہو یا ایک ہو لہذا بعد ہر صدسال کے جماعت متفرقہ عالم میں ہوتی ہے اور سب کی سعی اصلاح دین میں ہوتی ہے ان کو بقدر اپنے علم و رتبہ کے حصہ تجدید کا ملتا ہے واللہ تعالی اعلم ۔مگر کسی کو مقرر معین نہیں کہہ سکتے۔"

(کتاب التفسیر و الحدیث ص:۱۱۰ ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی ، پاکستان)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"حدیث شریف میں لفظ  "من" مذکور ہے اور اس کا اطلاق ایک فرد پر بھی ہوتا ہے اور جماعت پر بھی ، لہذا یہ بھی ممکن ہے کہ تجدید کا کام ایک جماعت کرے۔"

(کتاب السلوک و الاحسان جلد ۴ ص:۳۴۵ ط:جامعہ فاروقیہ کراچی)

خیر الفتاوی میں ہے:

"اس لفظ" من یجدد" کے اوپر غور فرمایا جاوے ۔لفظ "من "معنی میں جمع کے اور لفظ مفرد کا ہے ۔ تو اب اس سے ایک قرن میں ایک فرد معین مراد لینا اور تیرہ قرن جو گزرچکے ہیں ان میں سے تیرہ آدمیوں کا انتخاب کرنا اور یہ کہنا کہ اس صدی کا مجدد فلاں تھا اور اس کا فلاں ، تکلف سے خالی نہیں ۔اس لیے معنی حدیث کی بناء پر اظہر یہ معلوم ہوتا کہ ہر صدی میں اللہ تعالی ایک جماعت ایسی  قائم فرماتے ہیں جن کا ہر فرد ہر بلد میں تقریر و تحریر کے ذریعہ سے دین کو قائم رکھتا ہے اور تحریف غالین و مبطلین سے حفاظت کرتا ہے ۔"

(جلد ۱ ص:۶۹ ط:مکتبۃ امدادیۃ)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144308101111

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں