بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ارتداد کے بعد توبہ قبول ہوتا ہے یا نہیں؟


سوال

میرے سے کلمات کفر صادر ہوئے تھے، جس کے بعد میں نے توبہ کر کے تجدیدِ ایمان کیا الحمداللہ، اور مجھے پورا یقین ہے اللہ غفور رحیم ہے، اس نے میری توبہ کو قبول کر لیا، لیکن توبہ کرنے کے بعد بھی مجھے ایسا دل میں خیال آتا کہ ہو سکتا ہے کہ میری توبہ قبول نہ ہوئی ہو جس کی وجہ سے میرے دل میں یہ خیال آتا کہ پتا نہیں میں دائرہ اسلام میں داخل ہو کر مسلمان ہو گئی یا خدانخواستہ ابھی تک کافر و مرتد ہی ہوں، لیکن میں فورا ہی اس خیال کو جھٹک کر یہ سوچتی ہوں کہ اللہ غفور رحیم ہے، اس نے میری توبہ کو قبول کر لیا ہے اور میں دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی ہوں اور پھر تھوڑی دیر یوں ہی ان خیالات کو جھٹکتی رہتی ہوں۔

کیا محض یہ خیال آنے سے کہ پتا نہیں میں دائرہ اسلام میں داخل ہو کر مسلمان ہو گئی یا نہیں؟ کیا صرف ایسا خیال آنے سے بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں یا نہیں ،کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ اپنے ایمان میں شک کرنے سے بھی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے؟ اور اگر ہو جاتے ہیں تو مجھے بتایئے میں کیا کروں؟ میں الجھ کے رہ گئی ہوں میرا ایمان ہر وقت مجھے خطرے میں لگتا اور اس سے خدانخواستہ میری شادی شدہ زندگی پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں؟  میں پریشان ہو گئی ہوں، میری مشکل آسان کردیجیے، میری عبادات بھی متاثر ہو رہی ہیں، نیز کیا تجدیدِ ایمان کے بعد کوئی اور گناہ جیسے گانے سننے وغیرہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کفریہ قول یا عمل کا ارتکاب کرنے والا  اگر صدق دل سے توبہ کرلے تو شرعاً اس  کی توبہ قبول  ہوجاتی ہے، لہذا   اگر کوئی شخص (العیاذ باللہ) مرتد ہونے کے بعد اس کیے ہوئے فعل یا قول سے توبہ کرکے آئندہ تمام کفر و شرک کی باتوں سے پرہیز کرنے کا عہد کرے اور دل کے یقین کے ساتھ زبان سے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھےاور جملہ عقائد پر ایمان لے آئے، تو وہ شخص شرعاً دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتاہے اور  توبہ کے بعد ایمان کی دولت مل جاتی ہے، اور توبہ کرنے کے بعد اس شخص کا حکم بھی عام مسلمانوں کی طرح ہوجاتا ہے۔

لہذا  صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ نے مندرجہ بالا طریقے کے مطابق توبہ کرکے تجدید ایمان  کرلیا، تو اس کی توبہ قبول ہوچکی ہے، اب اس کو  شک یا وسوسوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان کے متعلق سوچنا چاہیے۔بس اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزارے، اپنے فرائض  انجام دے اور  منکرات سے بچے  اور غیر ضروری خیالات میں الجھنے سے گریز کرے بلکہ حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر اختیاری  وسوسہ کا آنا اور  اسے برا سمجھنا ایمان کی علامت ہے، لہذا ان خیالات اور وسوسوں سے پریشان نہ ہوں ، اور ان کا علاج یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل دھیان نہ دیا جائے، بل کہ ان کا خیال جھڑک کر ذکر  اللہ کی کثرت کا اہتمام کرنا چاہیے۔

نیز اگرکوئی شخص ضروریاتِ دین یعنی دین کے بنیادی عقائد اور احکام کو مانتا ہو اور ان کی خلاف ورزی کو حلال اور جائز نہ سمجھتا ہو، البتہ عمل میں سستی اور غفلت کی وجہ سے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہو تو وہ گناہ گار ضرور ہے، لیکن  اس سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج اور کافر نہیں ہوجاتا، بل کہ وہ مسلمان ہی ہے؛ کیوں کہ جمہور اہلِ حق کا مسلک یہ ہے کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا کافر نہیں ہوتا۔

سائلہ کو چاہیے کہ کثرت سے  لاحول و لا قوة الا باللهکا ذکر کرے، اس سے ان شاء اللہ وساوس ختم ہو جائیں گے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن يحيى بن يعمر، حدثه، أن أبا الأسود الدؤلي، حدثه ان أبا ذر رضي الله عنه حدثه، قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثوب أبيض، وهو نائم، ثم أتيته وقد استيقظ، فقال:" ما من عبد قال لا إله إلا الله، ثم مات على ذلك، إلا دخل الجنة"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، على رغم أنف أبي ذر، وكان أبو ذر إذا حدث بهذا، قال: وإن رغم أنف أبي ذر".

"ترجمہ: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے، پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا: چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا: چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے (حیرت کی وجہ سے پھر) عرض کیا: چاہے اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے الفاظ ابوذر کے لیے  «وإن رغم أنف أبي ذر‏.‏») ضرور بیان کرتے۔ "

(کتاب الإیمان باب المعاصي من أمر الجاهلية ولا يكفر صاحبها بارتكابها إلا بالشرك: 1/ 204، ط: دار الفكر)

عمدۃ القاری میں ہے:

"ومذهب أهل الحق على أن من مات موحدا لا يخلد في النار وإن ارتكب من الكبائر غير الشرك ما ارتكب وقد جاءت به الأحاديث الصحيحة منها قوله عليه السلام وإن زنى وإن سرق."

(باب المعاصي من أمر الجاهلية ولا يكفر صاحبها بارتكابها إلا بالشرك: 1/ 204، ط: دار الفكر)

صحیح مسلم میں ہے:

"حدثني زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فسألوه: ‌إنا ‌نجد ‌في ‌أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: «وقد وجدتموه؟» قالوا: نعم، قال: «ذاك صريح الإيمان»".

" ترجمہ: حضرت ابوہریرہ   رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:  صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں   سے کچھ  لوگ نبی  ﷺ  کی  خدمت  میں  حاضر  ہو کر عرض کرنے لگے کہ:  ہم اپنے دلوں میں کچھ خیالات ایسے پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو بیان نہیں کر سکتا، آپ ﷺ نے فرمایا:  کیا واقعی تم اسی طرح پاتے ہو؟ (یعنی گناہ سمجھتے ہو) صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو واضح ایمان ہے۔"

(کتاب الإیمان، باب بيان الوسوسة في الإيمان وما يقوله من وجدها، 1/ 119، رقم الحدیث: 132، ط: دار احیاء التراث العربی)

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"فإن استتيب فتاب خلي سبيله، ولكن توبته أن ‌يأتي ‌بكلمة ‌الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام أو يتبرى عما كان انتقل إليه، فإن تمام الإسلام من اليهودي التبري عن اليهودية، ومن النصراني التبري عن النصرانية، ومن المرتد التبري عن كل ملة سوى الإسلام؛ لأنه ليس للمرتد ملة منفعة، وإن تبرأ عما انتقل إليه فقد حصل ما هو المقصود."

(كتاب السير، باب المرتدين، 10/ 99، ط: دار المعرفة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا ارتد المسلم عن الإسلام والعياذ بالله عرض عليه الإسلام، فإن كانت له شبهة أبداها كشفت إلا أن العرض على ما قالوا غير واجب بل مستحب كذا في فتح القدير."

(كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، 2/ 253، ط: رشیدیة)

و فیہ ایضاً:

"ولا فرق في ذلك بين الحر والعبد كذا في السراج الوهاج وإسلامه أن ‌يأتي ‌بكلمة ‌الشهادة، ويتبرأ عن الأديان كلها سوى الإسلام، وإن تبرأ عما انتقل إليه كفى كذا في المحيط".

(كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، 2/ 253، ط: رشیدیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502100287

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں