بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایران سے پیٹرول کی خریداری کے ٹوکن فروخت کرنے کا حکم


سوال

میرا تعلق گوادر سے ہے یہاں بلکہ پورے مکران میں حکومت نے ایران کے بارڈر کے ساتھ مختلف پوائنٹس کھول دیے ہیں تاکہ غریب عوام تیل کا کاروبار کر سکے حکومت نے سب لوگوں کی گاڑیاں اپنے پاس رجسٹر کی ہیں باری باری سب لوگوں کو ایران جانے کے لیے ٹوکن دیتا ہے تاکہ لوگ ایران سے تیل لا سکیں لیکن یہاں کے کچھ لوگ ٹوکن لے کر اس کو دوسرے گاڑی والوں کے پاس پچاس، ساٹھ ہزار میں بیچ دیتے ہیں اور اپنا اصل شناختی کارڈ بھی اسی گاڑی والے کو دیتے ہیں تاکہ وہ ایران جا سکے کیوں کہ جو گاڑی جس کے نام پر حکومت کے پاس رجسٹر ہے اور جب اس کو ٹوکن ملتا ہے تو ایران جانے کے لیے حکومت بارڈر پر اس کا اصل شناختی کارڈ مانگتی ہے اسی وجہ سے جب وہ ٹوکن کو دوسرے گاڑی والے کے پاس بھیج دیتا ہے تو اس کو اپنا اصل شناختی کارڈ بھی دیتا ہے تاکہ وہ آسانی سے ایران جا سکے ہر مہینے ہر گاڑی والے کو دو یا تین ٹوکن ملتا ہے۔

سوال 1:اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس ٹوکن کو دوسرے کار مالکان کو بیچنا اور منافع کمانا جائز ہے یا نہیں؟

سوال 2: بہت سے گاڑی مالکان نے اپنے گاڑی سرکار کے پاس رجسٹر کی ہیں لیکن بعد میں اسی گاڑی کو جو سرکار کے پاس رجسٹر ہے اس کو بھیج دیتے ہیں لیکن پھر بھی اسی گاڑی کے نام سے سرکار سے ٹوکن لیتے ہیں اور دوسری گاڑی والوں کے پاس پچاس ہزار یا اس سے زیادہ میں بھیج دیتے ہیں۔ کیا یہ رقم حلال ہے یا حرام؟

جواب

صورت مسئولہ میں  مذکورہ ٹوکن حکومت کی طرف سے ایک قسم کا اجازت نامہ ہے  لہذا یہ مال نہیں ہے ، اس کی خرید و فروخت شرعا بیع باطل ہے اور حاصل ہونے والی کمائی ناجائز اور حرام ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة.

(قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا، فإنه يلحق بتفويت حقيقة الملك في حق الضمان كحق المرتهن؛ ولذا لا يضمن بإتلاف شيء من الغنيمة أو وطء جارية منها قبل الإحراز؛ لأن الفائت مجرد الحق وإنه غير مضمون، وبعد الإحراز بدار الإسلام، ولو قبل القسمة يضمن لتفويت حقيقة الملك ويجب عليه القيمة في قتله عبدا من الغنيمة يعد الإحراز في ثلاث سنين بيري، وأراد بقوله لتفويت حقيقة الملك الحق المؤكد إذ لا تحصل حقيقة الملك إلا بعد القسمة كما مر. (قوله: كحق الشفعة) قال في الأشباه: فلو صالح عنها بمال بطلت ورجع، ولو صالح المخيرة بمال لتختاره بطل ولا شيء لها ولو صالح إحدى زوجتيه بمال لتترك نوبتها لم يلزم ولا شيء لها وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف في الأوقاف."

(کتاب البیوع ج نمبر ۴ ص نمبر ۵۱۸، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101846

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں