بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ارم نام رکھنے کا حکم


سوال

ارم نام رکھنا کیسا ہے ؟

جواب

"ارم"(ہمزہ زیر، راء زبر، میم ساکن) كا معنی   لغت کے اعتبار سے "ارم "کے مختلف معانی ہیں:، بہشت کے نمونے پر شداد بن عاد  کا بنوایا ہوا باغ، مجازاً"بہشت، جنت۔"

(اردو لغت، فیروز اللغات، ، ص:56،ط:فیروز سنز لاہور)

   اسی طرح یہ معانی بھی ہیں  :"داڑھ  ،  صحرائی راستہ کا علامتی پتھر ،  تباہ شدہ قوم جس کی ایک شاخ عاد  ہے   ۔

( القاموس الوحید ،صفحہ 120 ،مطبوعہ: کراچی )

بعض معانی کے اعتبار سے  یہ نام رکھنا درست ہے، لیکن چوں کہ تباہ اور ہلاک شدہ قوموں کے لیے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے،اس لیے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔

 بہتر یہ ہے کہ بچوں اور بچیوں کے نام، انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات،صحابہ،صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین،تابعین اور دیگر بزرگوں کے نام پر رکھے جائیں۔ نیز جامعہ کی ویب سائٹ پر ناموں کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے موجود ہے وہاں سے دیکھ کر بھی نام رکھ سکتے ہیں۔

تاج العروس میں ہے:

"(و) {إرم} وأرام (كعنب وسحاب: والد عاد الأولى، أو الأخيرة، أو اسم بلدتهم) التي كانوا فيها، (أو أمهم أو قبيلتهم) . من ترك صرف إرم جعله اسما للقبيلة، (و) في التنزيل: {بعاد إرم ذات العماد} ، قال الجوهري: من لم يضف، جعل إرم اسمه ولم يصرفه، لأنه جعل عادا اسم أبيهم، ومن قرأه بالإضافة ولم يصرفه جعله اسم أمهم أو اسم بلدة. وقال ياقوت - نقلا عن بعضهم -: إرم لا ينصرف للتعريف والتأنيث لأنه اسم قبيلة، فعلى هذا يكون التقدير: إرم صاحب ذات العماد، لأن ذات العماد مدينة، وقيل: ذات العماد وصف، كما تقول: القبيلة ذات الملك، وقيل: إرم مدينة، فعلى هذا يكون التقدير بعاد صاحب إرم. ويقرأ: بعاد إرم ذات العماد، بالجر على الإضافة. ثم اختلف فيها، من جعلها مدينة، فمنهم من قال هي أرض كانت واندرست، فهي لا تعرف، وقيل: (دمشق) وهو الأكثر، ولذلك قال شبيب بن يزيد بن النعمان بن بشير:

(لولا التي علقتني من علائقها ... لم تمس لي إرم دارا ولا وطنا)

قالوا: أراد دمشق، وإياها أراد البحتري بقوله:

(إلى إرم ذات العماد وإنها ... لموضع قصدي موجفا وتعمدي)

(أو الإسكندرية) . وحكى الزمخشري: أن إرم بلد منه الإ سكندرية. وروى آخرون: أن إرم ذات العماد باليمن بين حضرموت وصنعاء من بناء شداد بن عاد، وذكروا في ذلك خبرا طويلا لم أذكره هنا خشية الملال والإطالة."

(جلد 31 ص: 206 ط: دارالهداية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144509101748

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں