بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹیکس انوائس فروخت کرنے کا حکم


سوال

میرا آئل کا کاروبار ہے اور میں سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہوں،میری تمام تر خریداری مختلف آئل کمپنیز سے ہوتی ہےاور مجھے کمپنیز سےخریدے ہوئے مال کی (g.s.t)انوائس ملتی ہے،میں مارکیٹ میں جومال بیچتا ہوں اس مارکیٹ میں زیادہ تر خریدار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈنہیں ہیں،جس کی وجہ سے میرے مال کی (g.s.t)اِن پٹ گورنمنٹ کے حساب میں بچ جاتی ہے جبکہ حقیقی مال بک چکا ہوتا ہے،مارکیٹ میں جو لوگ کاروبار کررہے ہیں ان سب کو گورنمنٹ رجسٹرڈ کرنے میں ناکام ہے،جس کی وجہ سے (g.s.t)اِن پٹ کا یہ سائیکل مکمل نہیں ہوپاتا اور ہمارے پاس یہ ساری(g.s.t)انوائس بچ جاتی ہیں،اور گورنمنٹ کی کتابوں میں یہ ساری (g.s.t)انوائس ایڈجسٹ کرنا ہمارے لیئے لازمی ہے،جو کہ ہمارے پاس ہر ماہ جمع ہوتی ہیں،ہمیں سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونے کی وجہ سے اس چیلنج کاسامنا ہے کہ گورنمنٹ کے مختلف محکموں میں ہمیں بلایا جاتاہے اور زبردستی رشوت دینے پر مجبور کیاجاتاہے،جوکہ ہمارے لیے بہت پریشانی کاباعث ہےبعض لوگوں نے اس کاحل یہ نکالا ہے کہ یہ انوائس الگ سے مارکیٹ میں فروخت کردی جاتی ہیں اور اس سے دہرا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے،ایک تو یہ کہ گورنمنٹ کے کھاتوں میں یہ ساری انوائس ایڈجسٹ ہوجاتی ہیں اور دوسرا اس سے کچھ رقم بھی حاصل ہوجاتی ہے،اب پوچھنا یہ ہے(1) کہ ان انوائس کا فروخت کرناجائز ہےیانہیں ؟فروخت کیئے بغیر ان انوائس کا کوئی حل بھی نہیں ہے۔(2) اور اگر ناجائز  نہیں ہے تو کیا صرف اس معاوضہ کو جو کہ (g.s.t)انوائس بیچنے سے حاصل ہوا ہے جبراًرشوت کو ادا کرنے میں استعمال کرسکتے ہیں؟(3)یا اس رقم کو گورنمنٹ کے دیگر ٹیکس ادا کرنے میں استعمال کرسکتے ہیں؟مثلاًٹرن اوور ٹیکس جو سال کے آخر میں ادا کرنا ہوتا ہے۔

جواب

 "ٹیکس انوائس "مال نہیں ہے، بلکہ ٹیکس کی ادائیگی کی دستاویز ہے،شرعاًخریدوفروخت درست ہونے کےلیےدونوں جانب مال ہونا ضروری ہے،جبکہ مسئولہ صورت  میں فروخت کنندہ خریدارسے مال وصول کررہا ہے اور خریدار کو عوض میں محض ایک دستاویز مل رہا ہےجو کہ شرعاًمال نہیں ہے،لہٰذا صرف ٹیکس انوائس کو فروخت کرنا اور اس پر نفع کمانا جائز نہیں ہے،اسی طرح ٹیکس انوائس کو بیچ کر جو رقم ملتی ہے ،ان رقم کو جبراًحکومت کو رشوت میں دینا جائز نہیں ہے،اسی طرح ان رقم کو کسی غریب کی امداد میں یا حکومت کی طرف سے اور ٹیکسوں میں بھی  دینا جائز نہیں ہے،بلکہ اصل مالک کو لوٹانا ضروری ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قوله بطل بيع ما ليس بمال) أي ما ليس بمال في سائر الأديان بقرينة قوله: والبيع به فإن ما يبطل سواء كان مبيعا أو ثمنا ما ليس بمال أصلا."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:50، ط: سعيد)

بدائع الصنائع مىں ہے :

"فإن وجد كله فاسداّ فإن كان ممالا ينتفع به اصلاّ فالمشتري يرجع علي البائع بجميع الثمن لأنه تبين أن البيع وقع باطلاّ،لأنه بيع ماليس بمال؛وبيع ماليس بمال لاينعقد."

(كتاب البيوع، باب مايسقط خيار العيب،  ج:4، ص:559، ط: إحياء التراث العربي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الأشباه لا يجوز الإعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الإعتياض عن الوظائف بالأوقاف.....مطلب: لا يجوز الإعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الإعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا."

(كتاب البيوع،مطلب في بيع الجامكية، ج:5، ص:518، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وعلى هذا قالوا ‌لو ‌مات ‌الرجل ‌وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه."

(كتاب الحضر والإباحة،فصل في البيع، ج:6، ص:385، ط: سعيد)

بذل المجهود شرح ابوداؤد ميں ہے :

"صرح الفقهاء بأن من اكتسب مالاً بغير حق، فإما أن يكون كسبه بعقد فاسد، كالبيوع الفاسدة والإستئجار على المعاصي والطاعات، أو بغير عقد، كالسرقة والغصب والخيانة والغلول، ففي جميع الأحوال المال الحاصل له حرام عليه، ولكن ‌إن ‌أخذه ‌من ‌غير ‌عقد ولم يملكه يجب عليه أن يرده على مالكه إن وجد المالك."

(كتاب الطهارة، باب فرض الوضوء، ج:1، ص:359، ط: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

 فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144408101079

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں