بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1442ھ- 26 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ پر کرنسی کا کاروبار


سوال

انٹرنیٹ پر کرنسی کا لینا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ کرنسی کا کل کے ریٹ کا کوئی کنفرم نہیں،  وہ اوپر بھی ہو سکتا ہے اور نیچے بھی۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں انٹرنیٹ پر کرنسی کا لین دین کرنا شرعاًجائز نہیں، کیوں کہ  کرنسی کے بدلے کرنسی کی خرید و فروخت "بیع صرف" ہے، جس کے شرعاً جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ معاملہ نقد ہو ، ایک ہاتھ سے ایک کرنسی  دی جائے اور دوسرے ہاتھ سےدوسری کرنسی لی جائے، ادھار کی صورت میں خرید و فروخت کا یہ معاملہ ناجائز ہوگا۔

 فتاوی شامی میں ہے:

"( ويشترط ) عدم التأجيل والخيار و ( التماثل ) أي التساوي وزنا ( والتقابض ) بالبراجم لا بالتخلية ( قبل الافتراق ) وهو شرط بقائه صحيحًا على الصحيح (إن اتحدا جنسًا وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) لما مر في الربا". (كتاب البيوع، باب الصرف ۵/ ۲۵۷ و ۲۵۸ ط:سعيد) فقط و الله أعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی دیکھیں:

ڈالر کی خریدوفروخت کے ذریعے منافع کمانے کا حکم


فتوی نمبر : 144108201972

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں