بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ کیبل کی کمائی کا حکم


سوال

 میں انٹرنیٹ کیبل چلاتا ہوں، تو پتہ یہ کرنا تھا کہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی جائز  ہے یا نا جائزہے ؟

جواب

واضح رہے کہ  انٹرنیٹ کا استعمال صحیح اور غلط دونوں مقاصد کے لیے ہوتا ہے، انٹرنیٹ کے ذریعے بہت سے جائز کام بھی کیے جاسکتے ہیں، اس لیے انٹرنیٹ کیبل کی سپلائی  کرنا جائز اور اس کی کمائی حلال ہے۔ اگر اس کا کوئی ناجائز استعمال کرتا ہے تو اس کا گناہ اسی غلط استعمال کرنے والے پر ہوگا۔ البتہ اگر کسی کے بارے میں علم ہو کہ وہ انٹرنیٹ کنیکشن لے کر غلط استعمال کرے گا تو اسے کنکشن فراہم نہیں کرنا چاہیے۔

البحر الرائق میں ہے :

"وقد استفيد من كلامهم هنا أن ما قامت المعصية بعينه يكره  بيعه وما لا فلا ولذا قال الشارح إنه لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة اهـ".

(کتاب السیر ،باب البغاۃ،ج:5،ص:155،دارالکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے :

"وكذا لايكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكراً، وإنما المنكر في استعمالها المحظور اهـ  قلت: لكن هذه الأشياء تقام المعصية بعينها لكن ليست هي المقصود الأصلي منها، فإن عين الجارية للخدمة مثلاً والغناء عارض فلم تكن عين المنكر، بخلاف السلاح فإن المقصود الأصلي منه هو المحاربة به فكان عينه منكراً إذا بيع لأهل الفتنة، فصار المراد بما تقام المعصية به ما كان عينه منكر بلا عمل صنعة فيه، فخرج نحو الجارية المغنية؛ لأنها ليست عين المنكر، ونحو الحديد والعصير؛ لأنه وإن كان يعمل منه عين المنكر لكنه بصنعة تحدث فلم يكن عينه".

(کتاب الجہاد،باب البغاۃ،ج:4،ص:268،سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408101360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں