بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

تعمیراتی قرضہ پر اضافی رقم لینا


سوال

"اخوت“ والے 5 لاکھ  روپے مکان کی تعمیر کے  لیے دیتے ہیں اور یہ ادائیگی ان کو  3سے 5سال میں واپسی  کرنی ہوتی ہے،  اور ہرسال میں وہ  25فی صد اضافی رقم لیں گے،  یعنی اگر ”اخوت“  والے  5 لاکھ  روپے دیتے  ہیں، تو  5 سال  میں  ایک  لاکھ  25 ہزار روپے اضافی وصول  کریں  گے، آیا یہ جو  اضافی پیسے لے رہے  ہیں،  یہ رقم سود تو نہیں ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کا ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض دیا   جائے اتنا ہی واپس لیا جائے،  اس پر کسی قسم کا مشروط نفع لینا سود ہے، لہذا  صورتِ  مسئولہ میں  اگر ”اخوت“ ادارے  والے  مذکورہ  اضافی رقم اسی  تعمیراتی قرضہ  کی بنیاد پر لیتے ہیں تو  یہ سودہے ، ایسا قرضہ لینا جائز نہیں ہے۔

الجامع الصغیر میں ہے:           

  "كل قرض جر منفعةً فهو ربا".

(الجامع الصغیر للسیوطی، ص:395، برقم :9728، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت) 

فتاوی شامی میں ہے:

"وَفِي الْأَشْبَاهِ: " كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ ؛ فَكُرِهَ لِلْمُرْتَهِنِ سُكْنَى الْمَرْهُونَةِ بِإِذْنِ الرَّاهِنِ". وفي الرد:"(قَوْلُهُ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ) أَيْ إذَا كَانَ مَشْرُوطًا، كَمَا عُلِمَ مِمَّا نَقَلَهُ عَنْ الْبَحْرِ".

(166/5، شامی، سعید)

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

اخوت نامی ادارے کے ساتھ شراکت داری کا معاملہ

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201224

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں