بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1446ھ 20 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

انتقال کے بعد، میت کے استعمال کی اشیاء کی تقسیم کیسے ہوں گی ؟


سوال

میری والدہ کا انتقال ہوا ہے ،ورثاء میں  میرے والد ،ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہے ، سوال یہ تھا کہ ہم کیسے ان کے موبائل کو وراثت کے لیے تقسیم کریں،  کیوں کہ وراثت کے پورشن تو پتہ ہے، لیکن یہ معلوم نہیں کہ ذاتی چیزوں کو کیسے تقسیم کیا جائے؟ جیسا کہ ان کے کپڑے اب ایک سوٹ کو کیسے تقسیم کریں؟

جواب

واضح رہے کہ انسان کی وفات کے ساتھ ہی،اس کی تمام مملوکہ چیزیں(چاہے وہ سونا،چاندی ،نقد پیسے وغیرہ ہوں،یا اس کے استعمال کے کپڑے ،موبائل وغیرہ) اس کا ترکہ بن جاتی ہیں،جن پر اس کے تمام شرعی ورثاء ،اپنے شرعی حصوں کے بقدر شریک  ہوتے ہیں؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے کپڑے اور موبائل پر ،ان کے تمام شرعی ورثاء (شوہر،بیٹااور بیٹیوں) کا حق ہے ، اب مرحومہ کے ترکہ میں جوچیزیں قابلِ تقسیم ہیں( مثلاً سونا،چاندی،نقد پیسے وغیرہ)  انہیں تو ورثاء کے درمیان ،ان کے حصص کے اعتبار سے تقسیم کرلیا جائے،اور جو چیزیں قابلِ تقسیم  نہیں ہیں یعنی تقسیم کے بعد وہ قابلِ انتفاع نہیں رہیں گی (مثلاً :کپڑےیا موبائل وغیرہ)،اس کی تقسیم کی صورت یہ ہے کہ ان تمام اشیاء کو فروخت کردیا جائے،اور پھر اس کی قیمت ،تمام ورثاء کے درمیان شرعی اعتبار سے تقسیم کردی جائے،یا ان تمام اشیاء کی قیمت لگالی جائے،اور پھر قیمت کے اعتبار سے،جس وارث کا جتنا حصہ بنتا ہے،اسی کے بقدر اس کو اتنی اشیاء دے دی جائیں۔

ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کے ترکہ میں سے ان کی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد،باقی کل ترکہ (منقولہ و غیر منقولہ) کو 8 حصوں میں تقسیم کر کے 2حصے مرحومہ کے شوہر کو،2حصے اس کے بیٹے کو  اور 1 ،1حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم اس طرح ہوگی:

میت(مرحومہ والدہ)،     مسئلہ:    4 /    8

شوہر بیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
13
221111

مجمع الانھر میں ہے:

"ثم يقسم الباقي بين ورثته."

(كتاب الفرائض، ج:2، ص:747، ط:المطبعة العامرة۔تركيا)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503102266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں