بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ملازم کی وفات کے بعد حکومت کی طرف سے ملنے والی رقم کا حکم


سوال

میرا چھوٹا بھائی سرکاری ملازم تھا،  پچھلے  سال وہ حادثاتی طور پر اللہ کو پیارا ہو گیا اس کی دو بیٹیاں ہیں، اس کی بیوی نے دوسری شادی کر لی ہے، اس کی وفات کے بعد گورنمنٹ کی طرف سے کوئی 3600000 لاکھ روپے ملے،ماہانہ پنشن بھی آ رہی ہے، اس عورت کے اکاونٹ میں اس پنشن اور دوسرے پیسوں میں مرحوم کے ماں باپ یا بہن بھائی کا کوئی حصہ ہے؟ مرحوم کے دو بھائی  اور ایک بہن ہے۔

رہنمائی فرمائیے،وہ 3600000 لاکھ روپے مختلف مد میں ملے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ ملازمین کو یا ان کے  انتقال  کےبعد ان کے لواحقین کو   ملنے والی پینشن کی رقم  متعلقہ ادارہ کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہوتی ہے،وہ رقم ملازم کے  ترکہ میں شامل نہیں ہوتی،  بلکہ وہ رقم ادارے کی جانب سے عطیہ،  امداد  اور  تبرع ہوتا ہے،  اس لیے  ادارہ مرحوم کے جن لواحقین کو وہ رقم دے گا وہی اس کے مالک ہوں گے؛  لہذا صورتِ  مسئولہ  میں چھوٹے  بھائی     کے انتقال کے بعد اگر پینشن  مرحوم کی بیوہ  کے نام پر  آرہی ہے وہ مرحوم کی بیوہ کی ملکیت ہے،یہ مرحوم کی وراثت میں تقسیم نہیں  ہوگی،اس  میں  دیگر ورثاء کا حق  نہیں ہے،پنشن کے علاوہ  مرحوم کےاہلِ خانہ کو  ملنے والا فنڈ اگرمحکمہ والے صرف بیوہ یا اولاد کے لیے مخصوص کر دیتے ہیں، جیسا کہ گریجویٹی یا بینوولنٹ فنڈ تو پھر یہ سب کچھ اُسی کو ملے گا جس کے لیے انہوں نے مخصوص کر دیا۔ اس لیے کہ ان دونوں کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ادارے کی طرف سے انعام ہوتا ہے،اور انعام  اسی کا ہوتا ہے جسے دینے والا دیتا ہے ؛ اس لیے یہ فنڈز ان ہی کے  ہوں گے جن کو ادارہ نامزد کرے گا،کسی اور کا اس میں حق نہیں ہوگا۔

اور  اگر وہ کسی کے لیے مخصوص نہیں کرتے،جیسا کہ پراویڈنٹ فنڈ اور ایمپلائز ویلفئر فنڈ  تو اس رقم کا حکم یہ ہے کہ : یہ ملازم کا ترکہ ہوتی ہے اور اس کے پس ماندگان میں وراثت کے اصولوں کے تحت تقسیم ہوتی ہے، چناں چہ اگر یہ دوسری صورت ہےکہ اس فنڈ کو اولاد یا بیوہ کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا تو مرحوم  کے والدین میں سے ہر ایک کو اس فنڈ اور دیگر ترکہ میں سے   ا ن کا شرعی حصہ  دیا جائےگا۔ 

امداد الفتاوی میں ہے:

’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے۔‘‘

(4/343، کتاب الفرائض، عنوان: عدم جریان میراث در وظیفہ سرکاری تنخواہ، ط: دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212202305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں