بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

ان شاء اللہ اور انشاء اللہ کا معنی


سوال

ابنِ ہشام کی شذور الذہب میں آیا ہے کہ 'انشاء' کا مطلب ہے "بنانا" یا "دریافت کرنا" ارشادِ باری تعالی ہے: 'انا انشانہن انشاء' یعنی ہم نے (ان عورتوں کو) بنایا ہے.. چنانچہ جب ہم 'انشاء اللہ' لکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نعوذباللہ ہم نے خدا کو بنایا ہے..!؟ درست لفظ 'ان شاء اللہ' ہے.

جواب

’’ان شاء اللہ‘‘  کا معنی ہے:  اگر اللہ نے چاہا تو، جب کہ ’’انشاء ‘‘  کے معنی ہوتے ہیں:  پیدا کرنا،بنانا وغیرہ۔
’’ان شاء اللہ‘‘ لکھنے کا درست اور بہتر طریقہ تو یہی ہے کہ تینوں الفاظ کو الگ الگ اس طرح لکھا جائے ’’ان شاء اللہ‘‘، تاہم اگر کوئی شخص ملا کر’’انشاء اللہ‘‘  بھی لکھ  لیتا ہے تو اس کا مقصد یہی معنی ہوتا ہے کہ ’’اگر اللہ نے چاہا تو ‘‘ نہ کہ کوئی اور معنی، لہذا  اس طرح لکھنا بھی چوں کہ اب عام رواج میں شامل ہوچکا ہے؛ اس لیے اس طرح بھی لکھنا درست ہے اور اس  لکھنے پر نکیر کرنا مناسب نہیں ہے، جیسا کہ مشہور قاعدہ ہے کہ غلط رائج ہوجانے والےلفظ کا استعمال زیادہ بہتر ہے بنسبت اس درست لفط کے استعمال سے جس کا رواج ختم ہوچکا ہو۔

بہرحال اردو تحریر میں ’’ان شاء اللہ‘‘ لکھنے میں اختیار ہے کہ جدا جدا کرکے لکھے یا ملا کر، گو بہتر طریقہ اسے جدا لکھنا ہے۔ اور عربی تحریر میں (یعنی پورا مضمون عربی میں لکھا جارہاہو تو) اسے ’’إن شاء الله‘‘  جدا کرکے ہی لکھنا چاہیے۔

النوازل الجدیدۃ الکبری میں ہے:

"الخطأ المشهور أولى من الصواب المهجور". ( ١ / ٥٤٦، دار الکتب العلمیة)

 فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144404100326

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں