بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1445ھ 02 دسمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

انشاءُ اللہ نام


سوال

میرانام ہے "انشاءُاللہ"۔بچپن سے میرا یہ نام چلا آرہا ہے میرے بعض ساتھی کہتے ہیں کہ آپکا نام صحیح نہیں ہے اسکو تبدیل کرنا واجب ہے ۔میں کہتا ہوں کہ یہ مرکب اضافی ہے (یعنی "انشاء"باب افعال کا مصدر مضاف اور لفظِ"اللہ"مضاف الیہ)اور مرکب اضافی میں اضافت الی الفاعل اور اضافت الی المفعول دونوں کا احتمال ہوتا ہے ، تو اگر "انشاءُاللہ"میں ہم اضافت الی المفعول مانے پھر تو معنی بگڑ جائے گا لیکن اگر ہم اس کو اضافت الی الفاعل پر محمول کرینگے تو کوئی خرابی لازم نہیں آئیگی ،لہذا اس تاویل کی بنا پر اس نام میں کوئی خرابی نہیں ،اور معنی فاسد سے بچنے کے لئے یہی احتمال متعین ہوگا۔ اور یہ تاویل صرف یہاں پر نہیں بلکہ دوسرے بعض ناموں میں بھی کرنی پڑھتی ہے ،کیونکہ اس کے بغیر اس کا معنی صحیح نہیں ہوسکتا مثلا:"امداداللہ" یہ بھی مرکب اضافی ہے تو کیا اس میں "اضافت الی المفعول" ماننے سے معنی نہیں بگڑتا؟ اور معنی فاسد سے بچنے کے لئے ""اضافت الی الفاعل"کا احتمال یہ متعین نہیں ہوگا؟ تو جب یہاں پر اس طرح ہوسکتا ہے تو کیا "انشاءُاللہ" میں نہیں ہوسکتا؟ اب آپ حضرات سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا مذکورہ تاویل کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اور دونوں ناموں میں یہ تاویل کرنا صحیح ہے یا ایک میں صحیح ہے اور ایک میں صحیح نہیں ؟اگر ایک میں صحیح ہے اور ایک میں صحیح نہیں ،تو دونوں میں کیا فرق ہے؟اور اگر اوپر مذکورہ دونوں ناموں میں مذکورہ تاویل درست ہے تو ہم "انشاءُاللہ" کو صرف نادر ہونے کی وجہ سے غیر مستحسن یا ناجائز یا واجب التبدیل کہہ سکتے ہیں؟ اب آپ بتائیں میرے لئے شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں انشاءُ اللہ(ہمزہ پر پیش کے ساتھ) نام فاعل کی طرف اضافت کے اعتبار سے ہو تو اس کا معنی ہوگا کہ اللہ کا بنایا ہوا اور اس معنی کے اعتبار سے یہ نام درست ہے۔ مذکورہ نام واجب التبدیل تو  نہیں ہے۔ تاہم اگر نام  اِن شاءَ اللہ ہو تو یہ نام درست نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"«وكان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يغير الاسم القبيح إلى الحسن جاءه رجل يسمى أصرم فسماه زرعة وجاءه آخر اسمه المضطجع فسماه المنبعث، وكان لعمر - رضي الله عنه - بنت تسمى عاصية فسماها جميلة»"

(كتاب الحظر والإباحة، ج6، ص418، سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408100420

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں