بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

انسانی اعضاء کی پیوندکاری سے متعلق بعض احکامات


سوال

اعضاء کی پیوند کاری کے حوالے سے کچھ جوابات مطلوب ہیں آج کل اعضاء کی پیوندکاری میں دو طرح سے پیوندکاری کی جا رہی ہے:

(الف) زندہ افراد سے اعضاء حاصل کر کے دوسرے فرد کو لگانا ۔

(ب)مردہ افراد سے اعضا حاصل کر کے دوسرے فرد کو لگانا۔

بہت سے ممالک میں زندہ افراد  وصیت کر دیتے ہیں ،کہ ان کے اعضاء جیسے آنکھیں گردے دل جگر وغیرہ دوسرے افراد کے لیے  عطیہ  ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ :

1)کیا مرنے کے بعد ایسے فرد کے اعضاء کو دوسرے فرد میں منتقل کرنا جائز ہے؟

2) ایک صورت یہ بھی پیش آتی ہے کہ آدمی جب وینٹی لیٹر پر چلا جاتا ہے اور اس کی برین ڈیتھ(brain death) ہو جاتی ہے، اس صورت میں ایسے شخص کا آپریشن کر کے یہ اعضا حاصل کیے جاتے ہیں اور دوسرے فرد میں منتقل کر دیے جاتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

3)کیا حکومتی سطح پر اس کی ترغیب دی جا سکتی ہے کہ لوگ اعضا عطیہ کریں تاکہ دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچے؟

4)کیا کسی کافر سے اعضاء کا عطیہ لیا جا سکتا ہے یا کسی مسلمان کا کوئی عضو کسی کافر کو لگایا جا سکتا ہے؟ 

جواب

اصلی تمہید :

واضح رہے کہ  کسی انسانی عضو کا  (خواہ زندہ کا ہو یا مردہ کا)   دوسرے انسان کے جسم میں استعمال (معاوضہ کے ساتھ ہو یا بغیرمعاوضہ کے)  قرآن وسنت اور فقہاء کرام کی واضح تصریحات کی روشنی میں   درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر  جائز نہیں ہے:

(1) اس مقصد کے لیے انسانی  جسم کی چیر پھاڑ کی جاتی ہے جو کہ مثلہ ہے، اور مثلہ شریعت میں جائز  نہیں ہے۔

(2) کسی زندہ حیوان (جس میں انسان بھی شامل ہے) کے جسم سے اگر کوئی جز  الگ کردیا جائے، وہ  مردار اور ناپاک کے حکم میں ہوجاتا ہے، لہذا عضو کی پیوند کاری کی وجہ سے پوری عمر ایک ناپاک چیز سے جسمِ انسانی ملوث رہے گا۔

(3) کسی چیز کو ہبہ کرنے یا عطیہ کے طور پر کسی کو دینے کے لیے یہ شرط ہے وہ شے  (چیز)  مال ہو، اور دینے  والے کی ملک ہو،نیز  انسان کو اپنے اعضاء میں حقِ منفعت تو حاصل ہے، مگر حقِ ملکیت حاصل نہیں ہے، جن اموال و منافع پر انسان کو مالکانہ حق حاصل نہ ہو  انسان  ان اموال یا منا فع کی مالیت کسی دوسرے انسان کو منتقل نہیں کرسکتا۔

(4) انسانی اعضاء و جوارح انسان کے پاس امانت ہیں  اور انسان ان کا نگران اور محافظ ہے، اور امین کو  ایسے تصرفات کا اختیار نہیں ہوتا جس کی اجازت امانت رکھنے والے نے نہ دی ہو۔

(5) انسان قابلِ احترام اور مکرم ہے، اس کے اعضاء میں سے کسی عضو کو  اس کے بدن سے  الگ کرکے  دوسرے انسان کو دینے میں انسانی تکریم کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے علاج ومعالجہ  اور شدید مجبوری کے موقع پر بھی انسانی اعضاء کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔ نیز جس طرح کسی زندہ آدمی کے کسی عضو کو لے کر علاج کرنا درست نہیں ہے، اسی طرح کسی مردہ انسان کے عضو سے بھی علاج کرنا جائز نہیں ہے۔

  یہ بھی واضح رہے کہ  آدمی کے تمام اعضاء سے فائدہ اٹھانے کی حرمت اس کی تکریم و احترم کے پیش ِ نظر ہے، تاکہ جس ہستی کو اللہ تعالی نے مکرم ومحترم بنایا ہے لوگ اس کے اعضاء و جوارح کو استعمال کرنے کی جسارت نہ کریں۔

(6)  اگر انسانی اعضاء کی پیوندکاری کو جائز قرار دیا جائے تو یہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ اور تباہی   کا ذریعہ بنےگا،کیوں کہ موجودہ زمانہ کے حالات و ماحول اورمعاشرہ میں پھیلی ہوئی بددیانتی کو دیکھتے ہوئے کوئی بعیدنہیں کہ لوگ اعضاء کی منتقلی کے جواز کے فتووں کابے جا استعمال کرتے ہوئے اسے باقاعدہ ایک کاروبار کی شکل دے دیں اوران ہی اعضاءکواپنا ذریعۂ معاش بنالیں، اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ:

الف)..بازار میں دیگراشیاء کی طرح انسانی اعضاء کی بھی علانیہ، ورنہ خفیہ خرید و فروخت شروع ہوجائےگی، جو بلاشبہ انسانی شرافت  کے خلاف  اور ناجائز ہے۔

ب)..غربت زدہ لوگ  اپنا اور بچوں کاپیٹ پالنے  کے لیے  اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے اعضاء فروخت کرناشروع کردیں گے۔

ج).. مُردوں کی بے حرمتی اوراُن کے ساتھ  ظالمانہ رویّہ شروع ہوجائے گا،  بالخصوص لاوارث مُردے اپنے بہت سے اعضاء سے محروم ہوکر دنیا سے جایا کریں گے، اور یہ بھی بعید نہیں کہ مال وو دلت کے لالچی اور پُجاری مدفون لاشوں کو اکھاڑکر اپنی ہوس پوری کرنے لگیں، جیسا کہ مختلف ذرائع سے سننے میں آتا رہتا ہے۔

د).. خدا نخواستہ یہ معاملہ بڑھتا رہا تو صرف اپنی موت مرنے والوں تک ہی یہ سلسلہ محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کام کے لیے  بہت سے معصوم انسانوں کے قتل کا بازار گرم ہوجانا اور اس مقصد  کے لیے اغوا کا شروع ہونا ممکن ہے، جو پورے انسانی معاشرے کی تباہی کا اعلان ہے۔

لہذا مذکورہ  وجوہات اور خرابیوں کی وجہ سے اعضاء کی پیوند کاری کرنا ناجائز وحرام ہے ۔

مذکورہ اصولی   حکم کے بعد  استفتاء میں موجود سوالات کے جوابات بالترتیب یہ ہیں :

1)  لہذا صورتِ مسئولہ میں   کوئی بھی آدمی نہ تو اپنا کوئی عضو کسی کو اپنی زندگی میں ہبہ کرسکتاہے اورنہ عطیہ کرنے کی وصیت کرسکتاہے،لہذا اپنے اعضاء کازندگی میں یابعد از مرگ کسی کوعطیہ کرنے کی وصیت کرنا ناجائزوحرام ہے۔

2) یہ صورت بھی  ناجائز وحرام ہے ۔

3)اور نہ ہی حکومت کے لیے جائز ہے کہ وہ حکومتی سطح پر اعضاء کی پیوند کاری کی ترغیب چلائے ۔

4) واضح رہے کہ شریعت  نے   انسانیت کے عظمت واحترام کے پیش نظر انسانی اعضاء سے(  پیوند کاری  کے ذریعے) نفع اٹھانے  سے منع فرمایا ،اس میں کسی کافر یا مسلمان کی کوئی تخصیص نہیں ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں  کافر کا کوئی عضو مسلمان کو لگانایا مسلمان کاکوئی عضو کافر کو لگا نا دونوں ہی حرام و ناجائز ہے ۔

حدیث شریف میں ہے: 

"عن ابن عباس، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث جيوشه قال: " ‌اخرجوا ‌بسم ‌الله تقاتلون في سبيل الله من كفر بالله، لا تغدروا، ولا تغلوا، ولا تمثلوا، ولا تقتلوا الولدان، ولا أصحاب الصوامع ."

(مسند احمد،مسند عبد الله بن العباس بن عبد المطلب، 4/461ط؛دارالرسالة)

سنن ابی داؤد میں ہے :

"عن أبي واقد، قال: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "‌ما ‌قطع ‌من ‌البهيمة وهي حية فهي ميتة."

(كتاب الصيد،باب في اتباع الصيد،ج:4،ص؛480 ،ط:دارالرسالة)

 "فتاوی عا لمگیری" میں ہے:

"وأما ما يرجع إلى الواهب فهو أن يكون ‌الواهب ‌من ‌أهل ‌الهبة، وكونه من أهلها أن يكون حرا عاقلا بالغا مالكا للموهوب حتى لو كان عبدا أو مكاتبا أو مدبرا أو أم ولد أو من في رقبته شيء من الرق أو كان صغيرا أو مجنونا أو لا يكون مالكا للموهوب لا يصح، هكذا في النهاية. وأما ما يرجع إلى الموهوب فأنواع منها أن يكون موجودا وقت الهبة فلا يجوز هبة ما ليس بموجود وقت العقد ومنها أن يكون مالا متقوما فلا تجوز هبة ما ليس بمال أصلا كالحر والميتة والدم وصيد الحرم والخنزير وغير ذلك ولا هبة ما ليس بمال مطلق كأم الولد والمدبر المطلق والمكاتب ولا هبة ما ليس بمال متقوم كالخمر، كذا في البدائع

( کتاب الھبہ،4 / 374، ط؛دارالفکر)

  فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وأما حكمها ‌فوجوب ‌الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني."

(كتاب الوديعة ،ج:4،ص:338 ،ط:دارالفكر)

شرح سیر الکبیر  للسرخسی ؒمیں ہے:

"‌والآدمي ‌محترم بعد موته على ما كان عليه في حياته. فكما يحرم التداوي بشيء من الآدمي الحي إكراما له فكذلك لا يجوز التداوي بعظم الميت. قال - صلى الله عليه وسلم -: «كسر عظم الميت ككسر عظم الحي»."

(شرح السير الكبير للسرخسيؒ،باب دواء الجراحة،ص:128 ،ط:الشركة الشرقية)

"فتاوی ہندیہ " میں ہے:

"‌الانتفاع ‌بأجزاء ‌الآدمي ‌لم ‌يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي."

(5 / 354، الباب الثامن عشر في التداوی والمعالجات، ط:دارالفکر)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"والآدمي مكرم شرعا وإن كان كافرا فإيراد العقد عليه وابتذاله به وإلحاقه بالجمادات إذلال له. اهـ أي وهو غير جائز وبعضه في حكمه وصرح في فتح القدير ببطلانه."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب الآدمي مكرم شرعا ولو كافرا، 58/5، ط: سعید)

  مذکورہ بالا  دلائل کی وضاحت کرتے ہوئے مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ تحریر فرماتے ہیں:

” انسان کے اعضاء و اجزاء انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہیں جن میں وہ مالکانہ تصرفات کرسکے، اسی لیے ایک انسان اپنی جان یا اپنے اعضاء و جوارح کو نہ بیچ سکتا ہے نہ کسی کو ہدیہ اور ہبہ کے طور پر دے سکتا ہے، اور نہ ان چیزوں کو اپنے اختیار سے ہلاک و ضائع کرسکتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کے اصول میں تو خود کشی کرنا اور اپنی جان یا اعضاء رضاکارانہ طور پر یا بقیمت کسی کو دے دینا قطعی طور حرام ہی ہے جس پر قرآن و سنت کی نصوصِ صریحہ موجود ہیں، تقریباً دنیا کے ہر مذہب و ملت اور عام حکومتوں کے قوانین میں اس کی گنجائش نہیں، اس لیے کسی زندہ انسان کا کوئی عضو کاٹ کر دوسرے انسان میں لگادینا اس کی رضامندی سے بھی جائز نہیں ۔۔۔ شریعتِ اسلام نے صرف زندہ انسان کے کارآمد اعضاء ہی کا نہیں، بلکہ قطع شدہ بے کار اعضاء و اجزاء کا استعمال بھی حرام قرار دیا ہے، اور مردہ انسان کے کسی عضو کی قطع و برید کو بھی ناجائز کہا ہے، اور اس معاملہ میں کسی کی اجازت اور رضامندی سے بھی اس کے اعضاء و اجزاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی، اور اس میں مسلم و کافر سب کا حکم یک ساں ہے؛ کیوں کہ یہ انسانیت کا حق ہے جو سب میں برابر ہے۔ تکریمِِ انسانی کو شریعتِ اسلام نے وہ مقام عطا کیا ہے کہ کسی وقت کسی حال کسی کو انسان کے اعضاء و اجزاء حاصل کرنے کی طمع دامن گیر نہ ہو، اور اس طرح یہ مخدومِ کائنات اور اس کے اعضاء عام استعمال کی چیزوں سے بالاتر ہیں جن کو کاٹ چھانٹ کر یا کوٹ پیس کر غذاؤں اور دواؤں اور دوسرے مفادات میں استعمال کیا جاتا ہے، اس پر ائمہ اربعہ اور پوری امت کے فقہاء متفق ہیں، اور نہ صرف شریعتِ اسلام بلکہ شرائعِ سابقہ اور تقریباً ہر مذہب و ملت میں یہی قانون ہے"۔

(انسانی اعضاء کی پیوندکاری، ص: ۳۶، مصدقہ مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:

"کوئی انسان فوت شدہ انسان کاجگر ،آنکھ ،دل وغیرہ دوسرے انسان کے جسم میں نہیں لگاسکتے،اگرکوئی  آدمی ایسی  وصیت کرتا ہےجیسا کہ سوال میں درج ہے تو یہ وصیت کرنا ناجائز  ہےاور وہ ناقابلِ نفاذ  نہیں ہے۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ ،باب التداوی والمعالجۃ ،336/18، ط: ادارہ الفاروق)

فتاویٰ حقانیہ میں ہے :

انسانی اعضاء کی پیوند کاری کا حکم :

اپنے اعضاء کو معالجتاً استعمال کرنے کے لیے دوسرے انسان کے لیے وصیت کرنا اور ان اعضاء کی پیوند کاری کرنا شرعا حرام ہے اگرچہ یہ دباؤ آج کل کافی عروج پر ہے جس اجتناب لازمی ہے ۔۔۔۔۔"

(باب التداوی ،ج:2،ص:397 ،ط:جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک)

        فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102621

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں