بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا مطلب


سوال

اللہﷻنے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے ،تو اس کا مطلب کہ انسان تمام مخلوقات، بشمول جلیل القدر فرشتوں، حضرت جبرائیل علیہ السلام سے افضل ہے ،تو کیا ایک مشرک یا کافر انسان بھی ان فرشتوں سے افضل ہیں ؟

جواب

انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کامطلب یہ نہیں ہے، کہ تمام کے تمام انسان اشرف ہیں  ،بلکہ اس سے مراد یہ ہے، کہ وہی انسان اشرف ہے، جو اپنے مقصد پر قائم ہو، یعنی اللہ کی عبادت اور معرفت کے حصول کے لیے اللہ کے احکامات کی بجا آوری میں مشغول ہو اور جو اللہ پر ایمان ہی نہ رکھتا ہو یا ایمان رکھنے بعد شش و پنج میں مبتلا ہو، یہ اعزاز اس کے لیے نہیں ہے، لہذا کافر یا مشرک کسی فرشتے سے افضل نہیں ہوسکتااور دوسری بات یہ ہے، کہ انسان مطلقاًتمام مخلوقات  سے افضل نہیں ہے، بلکہ انسانوں میں  پیغمبرانِ خداتمام مخلوقات، انسانوں اور فرشتوں سے افضل ہیں اور فرشتوں میں جو خواص ہیں، وہ  عام انسانوں سے افضل ہیں اور عام انسان عام فرشتوں سے افضل ہیں البتہ یہ کہ وہ کافر یا مشرک نہ ہو۔

مشرکین اور کفار کو تو سورۂ اعراف میں چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے۔

التفسیر المظہری میں ہے:

"وانما خص الإنسان بالذكر بوجوه...ثانيها انه اشرف المخلوقات مستعد لتجليات الصفات والذات اولى بالمعرفة التي هى المقصود بخلق الكائنات قال الله تعالى وما خلقت الجن والانس الا ليعبدون اى ليعرفون."

(ج:١٠، ص:٣٠٣، ط:مكتبة الرشدية الباكستان)

شرح العقائد میں ہے :

"و رسل البشر أفضل من رسل الملائکة و رسل الملائکة افضل من عامة البشر و عامة البشر أفضل من عامة الملائکة."

(ص:112، ط:المكتبة الكليات الأزهرية)

التفسیر المظہری میں ہے:

"وفي الآية دليل على ان خواص البشر وهم الأنبياء أفضل من خواص الملائكة وهم الرسل منهم كما ذهب أهل السنة والجماعة إليه - واما ما قالوا ان عوام البشر اعنى الأولياء منهم الصالحون المتقون أفضل من عوام الملائكة فثابت بالسنة - عن أبى هريرة قال قال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم المؤمن أكرم على اللّه من بعض ملائكته - رواه ابن ماجة."

(ج:١، ص:٥٤، ط:مكتبة الرشدية الباكستان)

جهود علماء الحنفية في إبطال عقائد القبورية"میں ہے:

"إن المؤمن ‌أشرف ‌المخلوقات."

(الباب الخامس بيان غلو القبورية في الصالحين بل في الطالحين، المبحث الأول في ذكر كلام بعض علماء الحنفية لإبطال عقيدة القبورية من (ان النبي نور، ج:٢، ص:٨٩٠، ط:دار الصميعي)

الحبائك في أخبار الملائك میں ہے:

"لا يلزم من تفضيل الجنس تفضيل كل فرد كما في قولهم الرجل خير من المرأة."

(خاتمة في مسائل منثورة، فصل في معرفة تفضيل بعض الموجودات الحادثات على بعض الجواهر والأجسام، ص:٢٤٠، ط:دارالكتب العلمية بيروت)

الاساس فی التفسیر:

"بحث بعض المفسرين هل الملائكة أفضل من البشر أو العكس؟ ولا خلاف بينهم أن الملائكة أفضل من فساق أهل الإيمان، فضلا عن الكافرين، فالخلاف فيما سوى ذلك، والذي استقر عليه بعضهم أن رسل البشر أفضل من رسل الملائكة، ورسل الملائكة أفضل من أولياء المسلمين، وأولياء الأمة الإسلامية أفضل من عامة الملائكة بعد الرسل."

(فصول شتى، فصل في السجود لآدم وبعض دروسه، ج:١، ص:١٣٠، ط:دار السلام القاهرة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144410101803

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں