بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

انفرادی اور اجتماعی عمل میں کون سا افضل ہے؟


سوال

 انفرادی اور اجتماعی عمل میں کیا فرق ہے اور کس کی فضیلت زیادہ ہے؟ آج میں صبح تلاوت قرآن کر رہا تھا اس لئے صبح تبلیغی جماعت کے مشورے میں شرکت نہ کر سکا، ظہر کو ایک تبلیغی بھائی کہہ رہے تھے کہ مشورہ تلاوت سے افضل ہے کیونکہ وہ اجتماعی عمل ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں کسی ایک کام کا  سب  مل بیٹھ کر کرنا اجتماعی عمل کہلاتا ہے اور کسی ایک شخص کا تنہا عمل انفرادی عمل کہلاتا ہے، عمومی طور پر یہ کہنا تو درست نہیں کہ اجتماعی عمل (مشورہ وغیرہ ) کسی بھی انفرادی نیک عمل سے افضل ہے،  بلکہ درحقیقت تمام اعمال کے اپنے اپنے مراتب اور درجات ہیں، جو مختلف مواقع کے اعتبار سے  بدل بھی جاتے ہیں، نیز ہر عمل کا درجہ شریعت کے عمومی مزاج اور اس کے موقع سے متعین ہوتا ہے۔ 

حضرت ابو ذر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!  کون سا عمل ( سب سے زیادہ) افضل ہے ؟ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ جل شانہ پر ایمان لانا  اوراس کی راہ میں جہاد کرنا ۔ میں  نے عرض کیا : کون سا غلام آزاد کرنا زیادہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:   جو مالکوں کے نزدیک سب سے زیادہ نفیس ہو اور اس کی قیمت سب سے زیادہ ہو ۔  میں نے عرض کیا : پس اگر میں ( اپنی تہی دستی کی وجہ سے ) نہ کروں تو؟ ( یعنی غلام آزاد نہ کر سکوں تو؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کسی کاری گر  کی مدد کرو ، یا کسی ناکارہ کے لیے  کام کرو، ( خود محنت مزدوری کر کے اس کو دے دو یا اس کے معاش کی کفالت کرو )۔ میں نے عرض کیا:  یا رسول اللہ!   اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کرسکوں؟  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :   تم اپنے شر سے لوگوں کو بچاؤ ، ( یعنی کسی بھی شخص کو کسی بھی طرح کا دُکھ  یا تکلیف نہ پہنچاؤ ) کہ یہ تمہارا خود اپنے اوپر احسان ہے ۔ (صحیح بخاری)

اس حدیث سے معلوم ہو کہ دین نے نیک اعمال کا دائرہ محدود نہیں رکھا،  بلکہ وہ حالات اور استعداد وطاقت کے لحاظ سے پھیلاہواہے اور جوشخص بھی ان میں سے کوئی عمل کرے گا  وہ اجر کا مستحق ہوگا۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی بڑے  نیک عمل  کرنے والوں کو کسی  دوسرے عمل سے وابستہ لوگوں کی تحقیر نہ کرنی چاہیے اور نہ ہی کسی اجتماعی عمل کرنے والے کو کسی انفرادی عمل کرنے والے سے اپنے آپ کو اور اپنے عمل کو بہتر سمجھنا چاہیے؛ اس لیے کہ ہر عمل اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ 

البتہ جو شخص جماعت میں نکل کر وقت لگا رہا ہو تو اسے چاہیے کہ جماعت کے اجتماعی اعمال کو اپنے انفرادی اعمال پر ترجیح دے  اور اجتماعی عمل کے وقت اسی میں شریک رہے، کسی انفرادی عمل میں نہ لگے، جماعت میں یہی نظم سکھایا جاتا ہے اور اس کا اہتمام کرنے سے ہی صحیح معنوں میں مطلوبہ فوائد حاصل ہوتے ہیں،اجتماعی عمل کا ایک وقت متعین ہوتا ہے ، انفرادی اپنے اختیار میں ہے جب چاہے جتنا چاہے کرے۔

حدیث شریف میں ہے: 

"حدثنا عبيد الله بن موسى، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن أبي مراوح، عن أبي ذر رضي الله عنه، قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم أي العمل أفضل؟ قال: «إيمان بالله، وجهاد في سبيله» ، قلت: فأي الرقاب أفضل؟ قال: «أعلاها ثمنا، وأنفسها عند أهلها» ، قلت: فإن لم أفعل؟ قال: «تعين ضايعا، أو تصنع لأخرق» ،: قال: فإن لم أفعل؟ قال: «تدع الناس من الشر، فإنها صدقة تصدق بها على نفسك»."

(باب: أي الرقاب أفضل، ج: 3، صفحہ: 144، رقم الحدیث: 2518، ط:  دار طوق النجاة )

 فتح الباری شرح صحيح البخاری میں ہے:

"قال النووي: محله والله أعلم فيمن أراد أن يعتق رقبة واحدة، أما لو كان مع شخص ألف درهم مثلا فأراد أن يشتري بها رقبة يعتقها فوجد رقبة نفيسة أو رقبتين مفضولتين فالرقبتان أفضل، قال: وهذا بخلاف الأضحية فإن الواحدة السمينة فيها أفضل، لأن المطلوب هنا فك الرقبة وهناك طيب اللحم ا هـ.والذي يظهر أن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص، فرب شخص واحد إذا أعتق انتفع بالعتق وانتفع به أضعاف ما يحصل من النفع بعتق أكثر عددا منه، ورب محتاج إلى كثرة اللحم لتفرقته على المحاويج الذين ينتفعون به أكثر مما ينتفع هو بطيب اللحم، فالضابط أن مهما كان أكثر نفعا كان أفضل سواء قل أو كثر، واحتج به لمالك في أن عتق الرقبة الكافرة إذا كانت أغلى ثمنا من المسلمة أفضل، وخالفه أصبغ وغيره وقالوا: المراد بقوله أغلى ثمنا من المسلمين، وقد تقدم تقييده بذلك في الحديث الأول".

(فتح الباري في شرح الحديث المذكور، ج: 5، صفحہ: 148، ط:  دار المعرفة - بيروت)

فقط والله أعلم  


فتوی نمبر : 144309100988

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں