بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

انفرادی نماز پڑھنے والوں میں سے ہر ایک کا علیحدہ سُترہ ہونا ضروری ہے


سوال

 ہمارے علاقے کی ایک مسجد کے دو حصے ہیں ایک تو مسجد کا اندرونی حصہ اور ایک صحن ، مسجد کے اندرونی حصے اور صحن کے درمیان میں ایک صف ستونوں کا ہے ( تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ستون ہیں ) ، معلوم یہ کرنا ہے کہ جب مختلف افراد صحن والے حصے میں اپنی سنن و نوافل میں مشغول ہوں تو کیا مسجد کے اندرونی حصے میں ستونوں کے آگے سے گزرنا درست ہے ؟ کیا یہ ستون ان تمام لوگوں کے لیے سترہ ہوگا ، یا ہر ایک کا سترہ فرداً فرداً علیٰحدہ ہوگا؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد کے صحن میں انفرادی نماز پڑھنے والوں میں سے جو نمازی ستون کے سامنے کھڑا ہوگا اس کے لیے تو ستون سُترہ ہوگا، اور  جو نمازی ستون کے سامنے کھڑا نہیں ہوگا اس کے لیے ستون سُترہ نہیں ہوگایعنی انفرادی نماز پڑھنے والوں میں سے ہر ایک نمازی کے لیے علیحدہ سُترے کا اعتبار ہوگا۔

باقی مسجد میں نمازی کے سامنے سے گزرنے کے حکم میں یہ تفصیل ہےکہ  اگر نمازی چھوٹی مسجد یا چھوٹے مکان میں ہو اور اس کے سامنے کوئی سُترہ  نہ ہو تو اس کے سامنے سے گزرنا ناجائز اور بہت سخت گناہے، لیکن اگر نماز ی کسی بڑی مسجد (کم ازکم چالیس شرعی گز یا اس سے بڑی مسجد) یا بڑے مکان میں نماز پڑھ رہاہو تو ایسی صورت میں اتنے آگے سے گزرناجائز ہے کہ اگر نمازی اپنی نظر سجدہ کے جگہ پر رکھے تو گزرنے والااسے نظر نہ آئے جس کا اندازہ  محتاط روايت كے مطابق نمازی کے كھڑے ہونے كی جگہ سے تین صف آگے تک کیا گیا ہے ۔

لہذا اگر مذکورہ مسجد چھوٹی ہو تو اس صورت میں ستون سے ہٹ کر کھڑے ہونے والوں کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں ہوگا اور اگر بڑی مسجد ہو تو نمازی کے کھڑے ہونے کی جگہ سے تین صف کے بعد گزرنا جائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومرور مار في الصحراء أو في مسجد كبير بموضع سجوده) في الأصح (أو) مروره (بين يديه) إلى حائط القبلة (في) بيت و (مسجد) صغير، فإنه كبقعة واحدة (مطلقا) 

(قوله: بموضع سجوده) أي من موضع قدمه إلى موضع سجوده كما في الدرر، وهذا مع القيود التي بعده إنما هو للإثم، وإلا فالفساد منتف مطلقا (قوله: في الأصح) هو ما اختاره شمس الأئمة وقاضي خان وصاحب الهداية واستحسنه في المحيط وصححه الزيلعي، ومقابله ما صححه التمرتاشي وصاحب البدائع واختاره فخر الإسلام ورجحه في النهاية والفتح أنه قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع أي راميا ببصره إلى موضع سجوده ... (قوله: ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار كما أشار إليه في الجواهر قهستاني (قوله: فإنه كبقعة واحدة) أي من حيث إنه لم يجعل الفاصل فيه بقدر صفين مانعا من الاقتداء تنزيلا له منزلة مكان واحد، بخلاف المسجد الكبير فإنه جعل فيه مانعا فكذا هنا يجعل جميع ما بين يدي المصلي إلى حائط القبلة مكانا واحدا، بخلاف المسجد الكبير والصحراء فإنه لو جعل كذلك لزم الحرج على المارة."

(كتاب الصلاة،باب مايفسد الصلاة و ما يكره فيها،1/ 634، ط:سعيد)

فتاوى عالمگيری میں ہے:

"وينبغي لمن يصلي في الصحراء أن يتخذ أمامه ‌سترة طولها ذراع وغلظها غلظ الأصبع ويقرب من السترة ويجعلها على حاجبه الأيمن أو الأيسر والأيمن أفضل. هكذا في التبيين ... وسترة الإمام ‌سترة للقوم ويدرأ المار إذا لم يكن بين يديه ‌سترة أو مر بينه وبين السترة بالإشارة أو بالتسبيح كذا في الهداية."

 (كتاب الصلاة،الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها ،الفصل الأول فيما يفسدها:1/ 104، ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144401102047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں