بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

فأفضلها قول: لا إله إلا الله میں قول سے مراد


سوال

ایمان کی 70سے زائد شاخیں ہیں، پہلی شاخ اور سب سے افضل شاخ: "لااله الله" کہنا ہے اور آخری: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے. سوال یہ ہے کہ لاالہ اللہ کہنے سے کیا مراد ہے؟ وضاحت فرما دیجیے! 

جواب

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ : ایمان کی ستر سے اوپر کچھ شاخیں ہیں، سب سے افضل"لا إله إلا الله" کہنا ہے.

ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :”فأفضلها قول لا إله إلا الله“ میں قول سے اس کا اپنا معنی "کہنا" مراد ہے، اس کی تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے :أفضل الذكر لا إله إلا الله. یہاں قول سے شہادت اور گواہی کا معنی مراد نہیں، کیوں کہ"لا إله إلا الله"  کی گواہی دینا ایمان کی شاخ نہیں بلکہ اس کی جڑ اور بنیاد ہے.

یہ توجیہ اس بنیاد پر ہے کہ اقرار کو ایمان کا جزء اور شطر قرار دیا جائے، لیکن اگر اقرار باللسان کو ایمان کا جزء نہیں، بلکہ ایمان کے لیے شرط قرار دیا جائے تو قول سے شہادت مراد لینا بھی درست ہے.

مرقاۃ المفاتیح میں ہے :

 أي: هذا الذكر فوضع القول موضعه، ويؤيده ما ورد بلفظ: أفضل الذكر لا إله إلا الله، لا موضع الشهادة ; لأنها من أصله لا من شعبه، والتصديق القلبي خارج عنها بالإجماع، كذا قيل، وهو مبني على جعل الإقرار شطر الإيمان، وأما على القول بأنه شرط فلا مانع من أن يكون المراد بالقول الشهادة لإنبائه عن التوحيد المتعين على كل مكلف الذي لا يصح غيره إلا بعد صحته، فهو الأصل الذي يبنى عليه سائر الشعب، أو لتضمنه شرعا معنى التوحيد الذي هو التصديق والتزامه عرفا سائر العبادات على التحقيق (مرقاة المفاتيح، كتاب الإيمان 1/ 69 ط:دار الفكر) فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144111201802

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں