بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1442ھ 24 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

امامت اور مؤذنی پر اجرت لینے کا حکم


سوال

عرض یہ ہے کہ بینک کا نظام سودی ہونے کے باعث اس کا حرام ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن کچھ دنوں سے شیطانی وسوسہ یہ آیا ہوا ہے کہ نماز پڑھانے اور اذان دینے کی تنخواہ کو تو چاروں اماموں نے بالاتفاق حرام قرار دیا ہے اور اس ضمن میں احادیث نبوی بھی موجود ہے۔کچھ حضرات سے رابطہ کیا تو جواب موصول ہوا کہ ان اماموں اور موذنوں کا بھی گھر بار ہے ان کو بھی اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے لیکن میرے نزدیک تو یہ کمزور سی تاویل ہے کیونکہ نماز تو ہر مسلمان پر فرض ہے سو اس میں بیوی بواں کا پیٹ پالنا کس طرح درست ہے اور اس کے علاوہ بینکار بھی تو یہی عذر پیش کرتے ہیں لیکن ان کا عذر آج تک قبول نہیں کیا گیا حتی اسلامی بینکاری میں بھی نہیں جس کے حلال ہونے پر بڑی بڑی شخصیات نے فتوی دیا ہے۔اس کے علاوہ آج کل جو بے روزگاری ہے اس صورت میں بندہ کہاں جائے اس سیاق میں ایک بریلوی مفتی کا فتوی پڑھا جس میں لکھا تھا کہ اگرچہ حدیث کی رو بینکاری کا حرام ہونا ثابت ہے لیکن قاعدہ کہ تغیر وقت کے ساتھ فتوی تبدیل ہوجاتا ہے لہذا اس بےروزگاری کے دور میں بینک میں کام کرنا جائز ہےلیکن اس میں سودی اکاونٹ نہ کھلوایاجائےیہ تاویل کس حد تک درست ہے؟نیز یہ بینک کی طرف سے دی جانے والی سہولیات استعمال کرنا کیسا ہے حالانکہ عام بینک کاکرنٹ اکاونٹ بھی سودی ہوتا ہے کہ اس میں موجود پیسہ بینک سودی کاموں میں استعمال کرتا ہے؟ برائے کرم ان الجھنوں کو دور فرماکر میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ بینک کا موجودہ نظام سود پر مبنی ہے اورسود لینا اور دینا اور اس کا حساب و کتاب کرنا اور اس کا گواہ بننا حرام ہے قرآن و حدیث میں نہایت سختی کے ساتھ سوددی لین دین سے منع فرمایا ہے،حتیٰ کہ ایسا کام کرنے والوں کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ کی وعید بھی آئی ہے، اس لیے اس میں کسی طرح تاویل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں باقی ایک بریلوی مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ وقت کے ساتھ فتویٰ بھی تبدیل ہوجاتا ہے اس لیے موجودہ بیروزگاری کے دور میں بینک میں کام کرنے کی گنجائش ہے یہ بات بالکل غلط ہے ۔ اس لیے کہ سود کی حرمت کا مسئلہ نص قطعی سے ثابت ہے اور جو مسائل نص قطعی سے ثابت ہوں ان میں تاویل کی ہر گز گنجائش نہیں لہٰذا اگر کوئی مفتی صاحب یہ کہیں کہ حدیث کی رو سے بینکاری حرام ہے لیکن بیروزگاری کو علت قرار دے تو ایسی تاویل اور علت قابل قبول نہیں ہوگی جب سود کا حرام ہونا ثابت ہوگیا اور تما م بینکوں کے نظام سود ی ہونا بھی معلوم ہے تو پھر بینک میں کسی طرح کی ملازمت کرنا اسی طرح بینک سے ملنے والی تما م مراعات وغیرہ سب ناجائز ہیں ۔ اس لیے ان حرام راستوں کو چھوڑ کر حلال راستے سے روزی حاصل کی جائے، دوم یہ کہ اذان اور امامت کے مسئلے پر سود کے مسئلے کاقیاس کرنا درست نہیں ہے،دونوں میں بہت تفاوت ہے ۔ سود کی حرمت نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے جبکہ اذان اور امامت کے مسئلے میں نصوصِ قطعیہ موجود نہیں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ فقہائے متقدمین نے اس کو ناجائز قرار دیا تھا اور دین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والوں کا وظیفہ بھی بیت المال سے مقرر تھا اس لیے یہ دینی امور منظم طریقے پر انجام ہوتے رہےلیکن جب بیت المال کا نظام باقی نہ رہا اور ان بنیادی امور میں بدنظمی اور بے ضابطگی کا احساس ہونے لگا توفقہائے متأخرین نے صرف اذا ن،امامت اور تدریس کے لیے اجازت دی اور یہ اجازت دین کی آبیاری اور اس کی بقاء کے لیے ہے ۔ اگر کوئی شخص انہی طاعات میں اپنے آپ کو مشغول کرے تو اس شخص کے لیے اپنی حاجات و ضروریات کو پور ا کرنے کے لیے دیگر ذرائع معاش کو اپنانا مشکل ہو جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر دیگر ذرائع معاش کو اپنائے گا تو پھر ان طاعات کو مستقل پابندی کے ساتھ بجالانا مشکل ہے تو ایسے حالات میں اگر فقہائے متقدمین کے فتویٰ پر عمل کرتے ہوئے ان طاعات پر اجرت لینے کو ناجائز قرار دیاجائے تو دین کے ضائع ہونے کا خطرہ تھاتو ابقائے دین کی خاطر فقہائے متاخرین نے یہ فتویٰ دیا کہ ایسے طاعات جن پر دین کی بقاء موقوف ہو ان پر اجرت لینا جائز ہے مثلاً امامت ، موذن، تدریس ، قضاء ، ممنصب افتاء چنانچہ فتاویٰ شامی میں ہے : اور وہ طاعات جن پر ابقاء دین موقوف نہیں ان پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ 656سعید مثلاً قرآن خوانی وغیرہ اور فقہاء نے جو علت بیان کی ہے مذکورہ طاعات پر اجرت لینے کے متعلق، وہ ہے ابقاء دین، نہ کہ اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنا۔ نیزسائل کا یہ خیال کہ چاروں أئمہ کے نزدیک ان طاعات کے اوپراجرت لیناحرام ہے،درست نہیں اس لیے کہ امام ابوحنیفہ کے علاوہ أئمہ ثلاثہ نے ان طاعات پر اجرت لینے کوحرام نہیں کہا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں