بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے اور اس پر دوام اختیار کرنے کا حکم


سوال

1:کیا عمامہ نماز کے مستحبات میں سے  ہے؟اور کیا عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے سے ثواب زیادہ ہوتا ہے؟

2: اگر کوئی عام حالات میں عمامہ نہیں باندھتا ہو،لیکن نماز پڑھتے وقت سنت کی نیت سے باندھ لیتا ہو،اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

1:واضح رہے کہ عمامہ باندھنالباس کی سنتوں میں سے ہے،جس کا درجہ سنتِ زائدہ کا ہے،یعنی اس کا تعلق آپﷺکی طبعی زندگی سے ہے اور امر و نہی کا اس سےکوئی تعلق نہیں ہے،لہٰذا  عمامہ پہن کر نماز پڑھنا مستحب اور باعثِ فضیلت ہے،لیکن اگر کوئی شخص بغیر عمامہ کےبھی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز بلا کراہت درست ہوجاۓ گی۔

2:کوئی حرج نہیں ،نیک عمل کا ثواب نیت پر موقوف ہوتا ہے،اس لیے  اس صورت میں مذکورہ شخص کو اتباعِ سنت کی نیت کی وجہ سےعمامہ باندھنے پر ثواب ملے گا۔

لیکن آج کل بعض جگہوں پر مساجد میں یہ رواج ہے کہ امام پہلے سے بندھا ہوا عمامہ مسجد میں محراب کے پاس رکھا ہوا سر پر رکھ کر نماز پڑھاتا ہے اور نماز مکمل ہونے کے بعد عمامہ اتار کر اس کی جگہ  رکھ دیتا ہے،اگرچہ افضل یہی ہے کہ نماز عمامہ کے ساتھ پڑھی جاۓ،لیکن عام طور پرایسی صورت میں عمامہ کونماز کا  حصہ سمجھا جاتاہے اور ضروری سمجھ کر اس پر دوام اختیار کیا جاتا ہے ،اور ایسا نہ کرنے کو مکروہ شمار کیا جاتا ہے،یہ عمل غلو فی الدین ہونے کی وجہ سےشرعاً ممنوع اور بدعت ہے، لہٰذاایسی صورت میں عمامہ باندھے بغیر ہی نماز پڑھنی ،پڑھانی چاہیے۔  ہاں اگر ضروری سمجھے بغیر سنت جان کر ہمیشہ عمامہ باندھ کر نماز پڑھی یا پڑھائی جاۓ تو صحیح ہے اور  باعثِ اجر ہے۔

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"نماز بلا عمامہ کے بھی ثابت اور درست ہے،عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے ،پڑھانے میں زیادہ ثواب ہے۔۔۔۔

عمامہ باندھ کر نماز پڑھانا مستحب ہے،لیکن بلا عمامہ کے بھی بلا کراہت درست ہے۔"

(کتاب الصلاۃ،باب الإمامۃ،الفصل الأول فی أوصاف الإمام،ج:6، ص:41،42، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)

زاد المعادمیں ہے:

"كانت له عمامة تسمى: السحاب كساها علياً، وكان يلبسها ويلبس تحتها القلنسوة، و كان يلبس القلنسوة بغير عمامة، ويلبس العمامة بغير قلنسوة."

(فصل في ملابسه صلى الله عليه وسلم، ص:45، ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"والسنة نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها. وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي عليه الصلاة والسلام في لباسه وقيامه وقعوده."

(كتاب الطهارة، سنن الوضوء،ج:1، ص:103، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(ولها آداب) تركه لا يوجب إساءة ولا عتابا كترك ‌سنة ‌الزوائد، لكن فعله أفضل.

(قوله كترك ‌سنة ‌الزوائد) هي السنن الغير المؤكدة؛ كسيره عليه الصلاة والسلام في لباسه وقيامه وقعوده وترجله وتنعله."

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، آداب الصلاة، ج:1، ص:477، ط:سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌والمستحب ‌أن ‌يصلي ‌الرجل في ثلاثة أثواب: قميص، وإزار، وعمامة. أما لو صلى في ثوب واحد متوشحا به تجوز صلاته من غير كراهة."

(كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة، ج:1، ص:59، ط:رشيدية)

عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ میں ہے:

"وقد ذكروا أن المستحب أن ‌يصلي في قميص وإزار وعمامة ولا يكره الاكتفاء بالقلنسوة ولا عبرة لما اشتهر بين العوام من كراهة ذلك وكذا ما اشتهر ان المؤتم لو كان معتما لعمامة والإمام مكتفيا علي قلنسوة يكره."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:198، ط: مير محمد كتب خانه، كراچي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"‌من ‌أصر ‌على ‌أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟."

(كتاب الصلاة، باب الدعاء في التشهد،الفصل الأول،ج:2، ص:353، ط:مكتبة إمدادية، ملتان )

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن الشارع إذا لم يعين عليه شيئا تيسيرا عليه كره له أن يعين... لأن مقتضى الدليل عدم المداومة... فإن إيهام اللزوم ينتفي ‌بالترك ‌أحيانا... بيان وجه الكراهة في المداومة وهو أنه إن رأى ذلك حتما يكره من حيث تغيير المشروع وإلا يكره من حيث إيهام الجاهل."

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة،فصل في القراءة، ج:1، ص:544، ط:سعيد)

الاعتصام للشاطبی میں ہے:

"منها: ‌وضع ‌الحدود:... ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة.... ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة."

(الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها وما اشتق منه لفظا، ج:1، ص:53، ط:دار  إبن عفان)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144505101777

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں