بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

امام سے پہلے سلام پھیرنے کا حکم


سوال

امام اگر نماز میں سلام کو لمبا کرے اور مقتدی اس صورت میں سلام امام سے پہلے پھیر دے تو کیا نماز درست ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مقتدی امام سے پہلے سلام پھیر دے تو نماز تو ہو جائے گی،لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن بلاعذر اس طرح کرنا مکروہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو أتمه قبل إمامه فتكلم جاز وكره۔۔۔۔(قوله: لو أتمه إلخ) أي لو أتم المؤتم التشهد، بأن أسرع فيه وفرغ منه قبل إتمام إمامه فأتى بما يخرجه من الصلاة كسلام أو كلام أو قيام جاز: أي صحت صلاته؛ لحصوله بعد تمام الأركان؛ لأن الإمام وإن لم يكن أتم التشهد لكنه قعد قدره؛ لأن المفروض من القعدة قدر أسرع ما يكون من قراءة التشهد وقد حصل، وإنما كره للمؤتم ذلك؛ لتركه متابعة الإمام بلا عذر، فلو به كخوف حدث أو خروج وقت جمعة أو مرور مار بين يديه فلا كراهة، كما سيأتي قبيل باب الاستخلاف (قوله: فلو عرض مناف) أي بغير صنعه كالمسائل الاثني عشرية وإلا بأن قهقه أو أحدث عمداً فلا تفسد صلاة الإمام أيضاً كما مر".

(فروع قرأ بالفارسية أو التوراة أو الإنجيل، ج: 1، ص: 525، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100576

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں