بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

امام و مؤذن کی چھٹیوں کے ضابطے اور تنخواہ میں کٹوتی يا پیشگی تنخواہ کا حکم


سوال

1۔کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دینی خدمات انجام دینے والے ائمہ مساجد و مؤذنین اور مدرسین وغیرہ کو شرعی لحاظ سے کتنی چھٹیوں کا حق حاصل ہے؟ کتنی چھٹیوں کے بعد معاوضے میں سے کٹوتی کی جا سکتی ہے؟اگر چھٹی لے کر جائیں تو کمیٹی مکمل معاوضہ دے سکتی ہے یا نہیں؟اگر  کوشش کے باوجود امام حاضرنہ ہو سکے تو اس پر بھی شرعا کٹوتی کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ سرکاری اداروں اور مساجد  میں ہر ماہ چار دن رخصت ہوتی ہے، تو کیا انتظامیہ ایسا کوئی قانون بنا سکتی ہے؟اگر انتظامیہ باہم مشورے سے  چھٹی کے دنوں کا معاوضہ دینا یا نہ دینا طے کر لے تو کیا یہ ٹھیک ہے؟

2۔امام مسجد اور مؤذن کے لیے اپنا نائب بنانا ضروری ہے؟اگر اپنا نائب دیں تو اس کا معاوضہ کس کے ذمے ہے؟

3۔اگر انتظامیہ ان کو اگلے ماہ کا معاوضہ  پیشگی دینا چاہے تو کیا حکم ہے؟

4۔عید کے موقع پر ڈبل معاوضہ دینے کا شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

1۔انتظامیۂ مسجد کو چاہیے کہ امام و مؤذن کے ساتھ باہمی مشورہ سے چھٹیوں کے متعلق  مناسب معاہدہ کرلیں، پھر معاہدے میں جو طے ہوجائے اس کی پابندی انتظامیۂ مسجد اور امام و مؤذن کے لیے ضروری ہوگی،معاہدے میں  طے ہو نے والی باتیں شرعی حکم کی طرح ہوں گی۔

بہتر یہ ہے کہ امام مؤذن کو ہفتہ میں ایک چھٹی یعنی مہینہ میں  چار چھٹیوں کی اجازت دی جائے، اور سالانہ اتفاقی رخصت (مثلاً بیماری یا مجبوری وغیرہ کےلیے) ایک مہینہ مقرر کردی جائے،(جانبین کی ضرورت  کے پیش ِنظر اس سےکم یا زیادہ مقدار بھی مقرر کی جاسکتی ہے)،پھراستحقاقی ایام کی رخصت سے زائد چھٹی کی تنخواہ کاٹی جاسکتی ہے،اس طرح ایک قانون اور  ضابطہ بنا لینا اس لیے بھی مناسب ہے تاکہ ائمۂ و مؤذنین چھٹیوں کے دنوں میں اپنی ضروریات پوری کرلیں اور تازہ دم ہو کر کا م کے دنوں میں پوری یکسوئی اور انہماک کے ساتھ خدمات انجام دے سکیں۔

استحقاقی ایام سے زائد چھٹیوں کی تنخواہ کی کٹوتی کرنا جائز ہے،ضروری نہیں،اور اگر چھٹی کسی عذر کی وجہ سے ہو تو پھر انتظامیہ  کے لیے زائد چھٹی کی تنخواہ کا ٹنا مناسب نہیں،بلکہ فقہاء کی  تصریح کے مطابق  اگر امام  سال کا اکثر حصہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دے،اور بقیہ دنوں عذر ِ شرعی کی وجہ سے رخصت پر ہو تو وہ پورے سال کی تنخواہ کا مستحق ہے۔

2۔استحقاقی رخصت کے  ایام  میں اپنا نائب دینا امام کی ذمے نہیں، اور نہ ان دنوں کے نائب کی تنخواہ امام کے ذمے ہے،بلکہ ان دنوں کے لیے نائب مقرر کرنا اور اسے تنخواہ دینا انتظامیۂ مسجد کی ذمہ داری ہے،البتہ اگر امام  اضافی چھٹیوں میں اپنا کوئی نائب مقرر کرے تو اس کی تنخواہ امام کے ذمے ہوگی، الحاصل استحقاقی چھٹی کے ایام میں جو امام کی نیابت کرے اس کی تنخواہ امام کے ذمے نہیں،اور استحقاقی چھٹی سے زائد چھٹیوں میں جو امام کی نیابت کرے اس کی تنخواہ  امام کی تنخواہ سے منہا کرکے نائب کو دی جا سکتی ہے۔

3۔ پیشگی وظیفہ دینا شرعاً جائزہے،بشرط یہ کہ اس بات کا  اطمینان ہوکہ امام صاحب اُس  مہینہ کی خدمات انجام دیں گےجس مہینے کا پیشگی معاوضہ دیا جارہا ہے۔

4۔اگر کمیٹی والے عید کے موقع پر ڈبل وظیفہ دینا طے کر لیں،یا پہلے سے عرف میں یہ بات ہو کہ عید کے موقع پر ڈبل وظیفہ دیا جاتا ہو تو  ڈبل وظیفہ دینا  چاہیے،اور اگر پہلے سے طے نہ ہو کمیٹی والے تبرعاً ڈبل وظیفہ دینا چاہیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔

سنن الدارقطني میں ہے:

"عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "المسلمون ‌عند ‌شروطهم ، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما".

(كتاب البيوع،ج:3،ص:427،ط:مؤسسة الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے: 

"وفي المنية القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، وفي الوهبانية أنه أظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدرس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة تكون للمطالعة والتحرير عند ذوي الهمة أما لو قال يعطى المدرس كل يوم كذا فينبغي أن يعطى ليوم البطالة المتعارفة بقرينة ما ذكره في مقابله من البناء على العرف، فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاء والجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ، وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا".

(كتاب الوقف،مطلب في قطع الجهات لاجل العمارة، ج:4،ص:372،ط:سعيد)

"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية" میں ہے:

"(سئل) فيما إذا كان زيد مؤذنا وكناسا في مسجد قرية فأقام عمرا نائبا عنه في ذلك مدة معلومة وجعل له نظير ذلك أجرة معلومة وباشرهما عمرو في المدة المزبورة ويريد مطالبته بالأجرة بعد ثبوت ما ذكر شرعا فهل له ذلك؟

(الجواب) : نعم ونقلها في البحر والخيرية (أقول) ذكر العلامة البيري عن المفتي أبي السعودأن الاستنابة تصح فيما يقبلها كالتدريس والإفتاء لا فيما لا يقبلها كطلب العلم وإقرائه وذلك بشرط العذر الشرعي وكون النائب مثل الأصيل أو خيرا منه فتصح إلى زوال العذر خلا أن المعلوم بتمامه يكون للنائب ليس للأصيل معه إلا أن يتبرع به النائب عن طيب نفس ورضا كامل لا يحوم حوله شيء من الخوف والحياءاهـ وأقره البيري والذي حرره في البحر أن النائب لا يستحق من الوقف شيئا؛ لأن الاستحقاق بالتقرير ولم يوجد ويستحق الأصيل الكل إن عمل أكثر السنة ولو عين الأصيل للنائب شيئا فالظاهر أنه يستحقه؛ لأنها إجارة وقد وفى العمل بناء على قول المتأخرين من جواز الاستئجار على الإمامة والتدريس وتعليم القرآن وصرح الخصاف بأن للقيم أن يوكل وكيلا يقوم مقامه وله أن يجعل له من معلومه شيئا وكذا في الإسعاف اهـ.

وبهذا أفتى الخير الرملي ولعل محمل ما مر عن المفتي أبي السعود ما إذا أنابه ولم يعين له أجرة ولم يعمل الأصيل أكثر السنة؛ لأن المقرر في الوظيفة قد أقامه مقامه فيستحق معلومها كالمقرر فيها أصالة بخلاف ما إذا جعل له أجرة معينة من معلومة فليس له أزيد من ذلك فليتأمل، ثم لا يخفى أن هذا كله إذا كانت الاستنابة بعذر شرعي وإلا فلا يستحق شيئا".

(كتاب الوقف ،الفصل الثالث في احكام النظارواصحاب الوظائف،ج:1،ص:215، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال في البحر: وحاصل ما في القنية: أن ‌النائب لا ‌يستحق شيئا من الوقف لأن الاستحقاق بالتقرير، ولم يوجد ويستحق الأصيل الكل إن عمل أكثر السنة وسكت عما يعينه الأصيل للنائب كل شهر في مقابلة عمله والظاهر أنه ‌يستحق لأنها إجارة وقد وفى العمل بناء على قول المتأخرين المفتى به من جواز الاستئجار على الإمامة والتدريس وتعليم القرآن وعلى القول بعدم جواز الاستنابة إذا لم يعمل الأصيل وعمل ‌النائب كانت الوظيفة شاغرة".

(كتاب الوقف ،فصل في اجارة الواقف،ج:4،ص:420،ط:سعيد)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"‌‌القاعدة السادسة:" العادة محكمة"

وأصلها قوله عليه الصلاة والسلام {ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن}.......

ومنها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم.

والمسألة على وجهين: فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة؛ لأنه يستريح لليوم الثاني. وقيل: لا يأخذ (انتهى) .وفي المنية: القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، واختاره في منظومة ابن وهبان، وقال: إنه الأظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدارس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة يكون للمطالعة والتحرير عند ذي الهمة.......

نقل في القنية أن الإمام للمسجد يسامح في كل شهر أسبوعا للاستراحة أو لزيارة أهله.وعبارته في باب الإمامة: يترك الإمامة لزيارة أقربائه في الرساتيق أسبوعا، أو نحوه أو لمصيبته أو لاستراحته لا بأس به، ومثله عفو في العادة والشرع (انتهى)"

(الفن الأول، القاعدۃ السادسة، صفحه: 79، طبع: دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144504100012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں