بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

امام نے صرف "السلام" کہا پورا سلام نہیں کیا تو کیا حکم ہے؟


سوال

 امام نے نماز کے آخر میں سلام پورا نہیں کیا،  یعنی صرف السلام کہا تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز کے ختم کرنے اور  دائیں بائیں جانب سلام پھیرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ  امام اور مقتدی دونوں اپنی نماز کو یہ الفاظ  "السلام علیکم ورحمۃ اللہ"  کہتےہوئے ختم کریں۔ تاہم اگر کسی نےغلطی سے یا جان بوجھ کر  نماز میں دائیں بائیں جانب سلام پھیرتے وقت  "السلام علیکم ورحمۃ اللہ "  کا پورا جملہ نہیں کہا  صرف  "السلام"  کہا تو اس سے بھی  واجب ادا ہوگیا اور امام اور  مقتدیوں سب کی نماز ہوگئی، لیکن یہ طریقہ مسنون طریقے کے خلاف ہے، اس سے  بچا  جائے۔

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"(ثم يسلم تسليمتين) تسليمة عن يمينه وتسليمة عن يساره ويحول في التسليمة الأولى وجهه عن يمينه حتى يرى بياض خده الأيمن وفي التسليمة الثانية عن يساره حتى يرى بياض خده الأيسر وفي القنية هو الأصح. هكذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم ويقول: السلام عليكم ورحمة الله كذا في المحيط المختار أن يكون السلام بالألف واللام وكذلك في التشهد. كذا في الظهيرية."

(کتاب الصلاۃ، الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها، ج: 1، صفحہ: 76، ط: دار الفکر)

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

(ولفظ السلام) مرتين فالثاني واجب على الأصح برهان دون عليكم؛ وتنقضي قدوة بالأول قبل عليكم على المشهور عندنا وعليه الشافعية خلافا للتكملة...... قال في التجنيس: الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال السلام جاء رجل واقتدى به قبل أن يقول عليكم لا يصير داخلا في صلاته لأن هذا سلام؛ ألا ترى أنه لو أراد أن يسلم على أحد في صلاته ساهيا فقال السلام ثم علم فسكت تفسد صلاته اهـ.

(کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب واجبات الصلاة، ج: 1، 468، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں