بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اہتمام کے باوجود اگر نماز درست نہ ہوئی تو کیا امام کا مؤاخذہ ہوگا؟


سوال

میں امام ہوں اور بوقت طہارت سکون سے پیشاب وغیرہ سے فارغ ہوکر اطمینان سے پاکی حاصل کرتا ہوں اور قطرے وغیرہ کی کوئی بیماری بھی نہیں ہے ،الحمدللہ! تو اگر اس کے باوجودکبھی کوئی قطرہ وغیرہ بعد اداۓ وضوء نکل جاۓ اور اس کا (قطرہ نکلنے کا)علم تا دم مرگ نا ہو پاۓ تو مجھ سمیت100 / 50 لوگوں کی نماز کا کیا ہوگا ؟اور کیا عند اللہ ان تمام کا مواخذہ مجھ ہی سے ہوگا ؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب آپ طہارت کا بقدر استطاعت مکمل اہتمام کرتے ہیں، اور قطرے کے خارج ہونے کا شبہ باقی نہیں رہتا ، اور اس طہارت کے حصول کے بعد نماز پڑھاتے ہیں،تو آپ اسی قدر مکلف ہیں، اس کے باوجود اگر کبھی کوئی قطرہ نکل جائے جس کا علم ہی نہ ہوسکے ،اور اسی حالت میں نماز پڑھادی جائے ،تو یہ ایک ایسی خطا ہے جس پر آپ مطلع ہی نہیں ہوسکے ، اس صورت میں  امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی نماز کے بارے میں مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے،اوقاتِ نماز سے کافی دیر پہلے یا نماز کے بعد پیشاب کی عادت بنا لیں تا کہ شک و شبہ کی گنجائش ہی نہ رہے۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

" لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا..." (سورة البقرة، رقم الآية: 285)

ترجمہ:اللہ تکلیف نہیں دیتاکسی کو مگر جس قدر اس کی گنجائش ہے۔۔۔ (ماخوذ از تفسیر عثمانی)

سنن ابن ماجہ میں ہے :

’’عن أبي ذر الغفاري ؓ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله قد تجاوز عن أمتي الخطأ ، والنسيان ، وما استكرهوا عليه.‘‘

ترجمہ :"حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول ،چوک اور زبردستی (کروائے گئے کام) معاف کر دئیے ۔"

(ج:1،ص:659ط:دارالفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144406101121

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں