بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

امام کے لیے سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد ربنا لک الحمد کہنے کا حکم


سوال

کیا امام صاحب جب" سمع اللہ لمن حمدہ "کہہ دے تو صرف مقتدی ہی ربنا لک الحمد کہے گا یا  امام بھی "ربنا لک الحمد" کہہ سکتا ہے؟

جواب

جماعت کی نماز میں رکوع سے اٹھتے ہوئے امام کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ  صرف ”سمع اللّٰه لمن حمدہ“ کہے، اور مقتدی  ”ربنا لك الحمد“ کہیں،( اور اگر نماز پڑھنے والا منفرد ہے تو وہ یہ دونوں کہے،) باقی امام ”سمع الله لمن حمدہ“ کہنے کے بعد  ”ربنا لک الحمد“ کہے گا یا نہیں؟ یہ مسئلہ فقہاء کرام کے درمیان مختلف فیہ ہے،  امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول یہ ہے امام صرف ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہنے پر اکتفا کرے، اور فتویٰ اسی قول پرہے۔  جب کہ صاحبین رحمہما اللہ اور امام صاحب کی ایک روایت یہ ہے کہ امام   ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہنے کے بعد  ”ربنا لک الحمد“ بھی کہے،   یہ افضل اور مستحب ہے۔ ملحوظ رہے یہ اختلاف صرف افضلیت میں ہے۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

"(ثم يرفع رأسه من ركوعه مسمعاً) في الولوالجية لو أبدل النون لا ما يفسد وهل يقف بجزم أو تحريك؟ قولان (ويكتفي به الإمام) ، وقالا: يضم التحميد سراً (و) يكتفي (بالتحميد المؤتم) وأفضله: اللهم ربنا ولك الحمد، ثم حذف الواو، ثم حذف اللهم فقط. 

(قوله: وقالا: يضم التحميد) هو رواية عن الإمام أيضاً، وإليه مال الفضلي والطحاوي وجماعة من المتأخرين، معراج عن الظهيرية. واختاره في الحاوي القدسي، ومشى عليه في نور الإيضاح، لكن المتون على قول الإمام".

 (رد المحتار1/ 496،ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فإن ‌كان ‌مقتديا ‌يأتي ‌بالتحميد ‌لا ‌غير ‌عندنا ..... (ولنا) أن النبي صلى الله عليه وسلم قسم التسميع والتحميد بين الإمام والمقتدي وفي الجمع بينهما من الجانبين إبطال القسمة وهذا لا يجوز،ولأن التسميع دعاء إلى التحميد وحق من دعي إلى شيء الإجابة إلى ما دعي إليه لإعادة قول الداعي."

‌‌(كتاب الصلاة،فصل في سنن حكم التكبير أيام التشريق،198/1، سعيد)

الفتاوى الهندية :

"فإن كان إماماً يقول: سمع الله لمن حمده بالإجماع، وإن كان مقتدياً يأتي بالتحميد ولايأتي بالتسميع بلا خلاف، وإن كان منفرداً الأصح أنه يأتي بهما، كذا في المحيط. وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية وهو الأصح".

(1/ 74،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102684

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں