بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

امام کو زکاۃ یا صدقہ فطر دینا


سوال

ایک مسجد کے امام  کی تنخواہ تقریباً 23 ہزار ماہانہ بنتی ہے۔  کیا ان کو فطرانہ یا زکاۃ کی مد میں دے سکتے ہیں؟ نیز موجودہ حالات میں اکثر لوگوں کی مالی حالت کم زور ہے؛ لہذا راہ نمائی فرمائیں کہ زکاۃ کون کون سے لوگوں کو دے سکتے ہیں؟

جواب

شرعی اعتبار سے مستحقِ زکاۃ وہ افراد ہیں جو  نہ بنی ہاشم (سید وں یا عباسیوں وغیرہ) میں سے ہوں اور نہ ہی ان کے پاس  ساڑھے سات تولہ سونا، یاساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابر نقد رقم یا مال تجارت  یا اس مالیت کے برابر ضرورت و استعمال سے زائد سامان موجود ہو۔ ایسے افراد کو زکات دی جا سکتی ہے۔

ملحوظ رہے کہ زکات کی ادائیگی  صرف مسلمان مستحقین کو کی جاسکتی ہے، غیر مسلم کو  زکاۃ دینا درست نہیں، نیز زکاۃ کی رقم تنخواہ کی مد میں یاکسی کام کی اجرت کے طور پر دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی ۔ جو افراد زکاۃ کے مستحق ہیں وہی صدقہ فطر کے بھی مستحق ہیں۔

لہذا  مذکوہ امام  تنخواہ وصول کرنے کے باجود اگر مستحق ہوں  تو زکاۃ یا صدقہ فطر کی مد میں ان کے ساتھ تعاون کیاجاسکتاہے،البتہ زکاۃ یا صدقہ فطر تنخواہ کی مد میں دینا درست نہ ہوگا۔ زکاۃ کا مستحق ہونے کا مذکورہ معیار سامنے رکھتے ہوئے جس شخص کے بارے میں تحقیق یا غالب گمان ہو کہ وہ مستحقِ زکاۃ ہے، اسے زکاۃ دی جاسکتی ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200821

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں