بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

امام کے ساتھ تسبیحات پڑھنا


سوال

جس طرح امام کے پیچھے قراءت کئے بنا نماز ہو جاتی ہے کیوں کہ قراتِ امام مقتدی کے لئے کافی ہوتی ہے، کیا اسی طرح اگر کسی نے رکوع سجدے کی تسبیح یا تحیات و درود شریف جان بوجھ کر نہیں پڑھیں اور امام کی مکمل اقتداء میں اس نے نماز مکمل کرلی تکبیر تحریمہ سے لیکر سلام پھیرنے تک بنا کچھ پڑھے بنا نماز ادا کرلی تو کیااس کی نماز صحیح ادا ہو جائے گی اور کیا امام کا تسبیح اور تحیات و درود شریف پڑھنا مقتدی کے لئے کافی ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ  امام کا تسبیح اور تحیات و درود شریف پڑھنا مقتدی کے لئے کافی  نہیں ہوگا، بلکہ  مقتدی کے لئےتسبیح اور تحیات و درود شریف پڑھنا  سنت  ہے، البتہ  اگر کسی نے رکوع سجدے کی تسبیح یا تحیات و درود شریف جان بوجھ کر نہیں پڑھی اور امام کی مکمل اقتداء میں اس نے نماز مکمل کرلی تو اس کی نماز صحیح ہو جائے گی  ، البتہ سنت رہ جائے گی اور ایسا کرنا خلاف سنت ہوگا۔ لہذا  مقتدی کو تسبیح اور تحیات و درود شریف پڑھنا  چاہیے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم) ... وسنة في الصلاة، ومستحبة في كل أوقات الإمكان.

 (قوله: وسنة في الصلاة) أي في قعود أخير مطلقاً، وكذا في قعود أول في النوافل غير الرواتب، تأمل".

" ویکتفي باللّٰهم صلّ علی محمد؛ لأنه الفرض عند الشافعي (و یترك الدعوات) و یجتنب المنکرات: هذرمة القراءة، و ترك تعوذ و تسمیة، و طمأنينة، وتسبيح، و استراحة".

(الدر المختار، باب الوتر و النوافل، (2/47) ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101267

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں