بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے کچھ بھی نہیں پڑھنے کی صورت میں نماز کا حکم


سوال

اگر میں امام کے پیچھے جماعت کے دوران کچھ بھی نہ پڑھوں تو کیامیری نماز قابل قبول ہو گی؟

جواب

 واضح رہے کہ اما م کے پیچھے  قراء ت کرنا تو جائز نہیں، لیکن مقتدی کو التحیات  اور قنوت پڑھنا لازم ہے،   البتہ اگر امام کے پیچھے پڑھنا چھوڑدیا تو نماز ہو جائے گی، اور جان کر چھوڑنے کی صورت میں گناہ بھی ہوگا،اسی طرح  ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے کی تکبیرات پڑھنا اور قومہ (رکوع اور سجدے کے درمیان) میں ربنالک الحمد کہنا ا ور تسبیحات پڑھنا مقتدی کے لیے سنت ہے، چھوڑنے کی وجہ سے نماز تو ہوجائے گی لیکن قصداً چھوڑنا خلاف سنت  ہے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم : من كان له إمام فقراءة الإمام له قراءة."

(کتاب امامۃ الصلاۃ،باب إذا قرأ الإمام فأنصتوا،ج:1 ص: 277،ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں : جس شخص کا کوئی امام ہو تو امام کی قرأت اس کی بھی قرأت ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(والمؤتم لايقرأ مطلقاً) ولا الفاتحة...( فإن قرأ كره تحريماً) و تصح في الأصح...الخ (باب صفة الصلاة، مطلب السنة تكون سنة عين و سنة كفاية."

(کتاب الصلاۃ،فصل فی القراۃ،ج:1،ص:544، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً :

"(ولو رفع الإمام رأسه قبل أن یتم المأموم التسبیحات وجب متابعته بخلاف سلامه قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لایتابعه بعل یتمه لوجوبه، ولو لم یتم جاز، ولو سلم والمؤتم في أدعیة التشهد تابعه لأنها سنة والناس عنه غافلون.........قوله: (ولو لم یتم جاز) معناه: صح مع الکراهة التحریمیة ویدل علیه أیضًا تعلیلهم بوجوب التشهد". 

 (باب صفة الصلاة، مطلب في إطالة الرکوع للجائي، ج:1، ص:296، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144502102355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں