بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہونے کاصحیح طریقہ


سوال

فرض نماز کے دوران جب امام رکوع میں ہو تو مسبوق مقتدی تکبیر کہتے ہی رکوع میں چلا جائے یا پھر تکبیر تحریمہ کہہ کرہاتھ باندھنے کے بعد ہلکا سا قیام کرکے رکوع میں جائے ؟کون سا طریقہ بہتر ہے؟

 

جواب

امام رکوع میں ہو تو  مقتدی کے لیے نماز میں  شامل ہونے کا  صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر مقتدی  کو اس بات کایقین ہوکہ  وہ تکبیر تحریمہ  کے بعد ثناء پڑھ کر امام کو رکوع میں پالے گا ،تو تحریمہ کے بعد ثناء پڑھ کر  رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہو جائے ، اگر اس بات کایقین نہ ہو  کہ امام کو رکوع میں پا سکے  گا ،تو  تکبیر تحریمہ کے بعد سیدھا کھڑا ہو جائے پھر دوسری تکبیر کہ کر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہو جائے یہی طریقہ زیادہ بہتر ہے  ،اگر تکبیر  تحریمہ کہہ کرہاتھ باندھنے کے بعد ہلکا سا قیام کر کے  رکوع میں چلا گیا  تب بھی  نماز درست ہو جائے گی  ۔

فتاویٰ شامی میں ہے : 

"فلو كبر قائما فركع ولم يقف صح لأن ما أتى به القيام إلى أن يبلغ الركوع يكفيه قنية."

(كتاب الصلاة ،فرائض  الصلاة ،ج :1 ،ص :445 ،ط :سعيد كراچي)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے : 

"ومدرك الإمام في الركوع لا يحتاج إلى تكبيرتين خلافا لبعضهم ولو نوى بتلك التكبيرة الواحدة الركوع لا الافتتاح جاز ولغت نيته، كذا في فتح القدير."

(كتاب الصلاة، الباب العاشر في ادراك الفر يضة ،ج :1 ،ص :133 ،ط :دارالكتب العلمية)

وفيها ايضا:

"ولو أدرك الإمام وهو راكع فكبر قائما وهو يريد تكبيرة الركوع جازت صلاته ولغت نيته. هكذا في محيط السرخسي."

(كتاب الصلاة ،الفصل الاول في فرائض الصلاة ، ج :1 ،ص :76 ،ط :دار الكتب العلمية)

فتاویٰ تاتارخانیہ میں  ہے :

" وأما إذا أدركه في حالة الركوع، وكبر تكبيرة الافتتاح قائما هل يأتي بالثناء قائما ؟ يتحرى فيه، إن كان أكبر رأيه أنه لو أتى به قائما يدرك الإمام في شيء من الركوع فإنه يأتى به، وإن كان أكبر رأيه أنه لو اشتغل بالثناء لا يدرك الإمام في شيء من الركوع، لا يأتى بالثناء بل يتابع الإمام في الركوع."

( كتاب الصلاة، كيفية الصلاة، ج : 2 ،ص :196 ،ط :مكتبة زكريا  ديوبند الهند)

البحر الرائق میں ہے  :

"ولو أدرك الإمام راكعا فكبر قائما وهو يريد تكبيرة الركوع جازت صلاته؛ لأن نيته لغت فبقي التكبير حالة القيام."

(كتاب الصلاة ،باب صفة الصلاة ،ج :1 ،ص :508 ،ط :دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144509100453

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں