بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 صفر 1443ھ 24 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

امام کا سری نماز میں جہرا سورہ فاتحہ پڑھنا


سوال

امام کا سری نماز میں جہرًا سورہ فاتحہ پڑھنے سے نماز کا حکم اور سجدہ سہو کا حکم بتائیں !

جواب

جن نمازوں میں یا جن رکعتوں میں  آہستہ آواز سے قراءت کرنا ضروری ہے، اس میں اگر امام بلند آواز سے تلاوت کرلیتا ہے، یا جن رکعتوں میں بلند آواز سے قراءت کرنا واجب ہے ان میں سے کسی رکعت میں امام آہستہ آواز سے قراءت کرلیتا ہے تو اگر اتنی مقدار بلند آواز سے قراءت کرلے یا آہستہ آواز سے قراءت کرلے جس  مقدارِ قراءت سے نماز درست  ہوجاتی ہے (جس کا اندازہ  فقہاء کرامؒ   نے کلمات کے اعتبار سے دس کلمے، اور حروف کے حساب سے تیس حروف سےکیا ہے) یعنی تین مختصر آیتوں یا ایک لمبی آیت کے بقدر تو  اس سے سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے، صرف ایک دو کلمہ  سری نماز میں  بلند آواز سے،  اور  جہری نمازوں میں آہستہ آواز سے قراءت کرلینے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔ البتہ اگر  منفرد،  یعنی تنہا نماز پڑھنے والے نے  سری نماز میں  بلند آواز سے،  اور جہری نماز میں آہستہ  آواز سے قرأت کی تو  نماز درست ہوجائے گی، اس پر سجدہ سہو بھی  لازم نہیں ہوگا۔

صورتِ  مسئولہ  میں اگر امام  نے  سری نماز میں جہراً سورۂ  فاتحہ  پڑھی تو  اس پر سجدہ سہو لازم ہے ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"[تنبيه] لم أر من قدر أدنى ما يكفي بحد مقدر من الآية الطويلة ... ويفيد قولهم: لو قرأ آية تعدل أقصر سورة جاز، وفي بعض العبارات تعدل ثلاثا قصارا أي كقوله تعالى-: {ثم نظر} [المدثر: 21] {ثم عبس وبسر} [المدثر: 22] {ثم أدبر واستكبر} [المدثر: 23]- وقدرها من حيث الكلمات عشر، ومن حيث الحروف ثلاثون، فلو قرأ - {الله لا إله إلا هو الحي القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم} [البقرة: 255]- يبلغ مقدار هذه الآيات الثلاث، فعلى ما قلناه لو اقتصر على هذا القدر في كل ركعة كفى عن الواجب، ولم أر من تعرض لشيء من ذلك فليتأمل."

وفیہ ایضاً: 

"(والجهر فيما يخافت فيه) للإمام، (وعكسه) لكل مصل في الأصح، والأصح تقديره (بقدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين. وقيل:) قائله قاضي خان، يجب السهو (بهما) أي بالجهر والمخافتة (مطلقاً) أي قل أو كثر ... (قوله: والجهر فيما يخافت فيه للإمام إلخ) في العبارة قلب، وصوابها والجهر فيما يخافت لكل مصل وعكسه للإمام ح وهذا ما صححه في البدائع والدرر، ومال إليه في الفتح وشرح المنية والبحر والنهر والحلية على خلاف ما في الهداية والزيلعي وغيرهما، من أن وجوب الجهر والمخافتة من خصائص الإمام دون المنفرد ... والحاصل: أن الجهر في الجهرية لا يجب على المنفرد اتفاقاً؛ وإنما الخلاف في وجوب الإخفاء عليه في السرية، وظاهر الرواية عدم الوجوب، كما صرح بذلك في التتارخانية عن المحيط، وكذا في الذخيرة وشروح الهداية كالنهاية والكفاية والعناية ومعراج الدراية. وصرحوا بأن وجوب السهو عليه إذا جهر فيما يخافت رواية النوادر اهـ فعلى ظاهر الرواية لا سهو على المنفرد إذا جهر فيما يخافت فيه، وإنما هو على الإمام فقط."

(کتاب الصلاۃ،  باب صفۃ الصلاۃ، ج:1، صفحہ: 537 و538، وفی:کتاب الصلاۃ، باب سجود السہو، ج: 2، صفحہ: 81، ط: ایچ، ایم، سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(ومنها الجهر والإخفاء)  حتى لو جهر فيما يخافت أو خافت فيما يجهر وجب عليه سجود السهو واختلفوا في مقدار ما يجب به السهو منهما قيل: يعتبر في الفصلين بقدر ما تجوز به الصلاة وهو الأصح ولا فرق بين الفاتحة وغيرها، والمنفرد لا يجب عليه السهو بالجهر والإخفاء؛ لأنهما من خصائص الجماعة، هكذا في التبيين."

(کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج: 1، صفحہ: 128، ط: دار الفکر)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200999

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں