بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

امام کا مسجد کے چندہ سے پیسے لینا


سوال

میں ایک مسجد میں امام ہوں شروع میں میری تنخواہ 1500 روپے مقرر کی تھی اور اس کے علاوہ میں نے دوبارہ درخواست کی کہ میری تنخواہ میں اور اضافہ کر دیا جائے تو مقتدی حضرات نے ہزار روپے اور بڑھا دیے ۔جب ہزار روپے بڑھائے گئے تب انہوں نے بولا تھا 1500 روپے جو شروع میں مقرر کیے تھے اس کے علاوہ ہزار روپے ہم آپ کو دیں گے، لیکن یہ آپ کی تنخواہ کے 1500 ہی رہیں گے ،اس کے علاوہ مزید ہم آپ کے ہزار روپے اور بڑھا دیتے ہیں تو اس میں کچھ ایک دو مقتدیوں کا اتفاق نہیں تھا اس کے باوجود بھی دو تین مہینے تک پیسے ملتے رہے۔

اب مفتی صاحب سات مہینے ہو چکے ہیں جو ہزار روپے انہوں نے بڑھائے تھے وہ اب نہیں دے رہے ہیں، میں کہہ بھی چکا ہوں اس کے بعد میں بھی نہیں مل پا رہے ہیں تو مفتی صاحب میرے لیے یہ بتائیے کیا میں ان کی اجازت کے بغیر مسجد کی آمد سے اپنی تنخواہ کے وہ پیسے لے سکتا ہوں یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب  مقتدیوں نے یہ کہا تھا کہ آپ کی تنخواہ 1500 ہی رہے گی ،ہم الگ سے ہزار روپے دیں گے ،اس کامطلب یہی ہے کہ تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا،تنخواہ حسب سابق 1500 ہی ہے،لہذا سائل کو چاہیے کہ وہ مقتدیوں سے دوبارہ مطالبہ کرے اور اپنی ضرورت کے مطابق تنخواہ میں اضافہ کرواکر مقتدیوں ہی سے مکمل تنخواہ وصول کرے ۔مسجد کی آمدنی سےمتولی / منتظم  کی اجازت کے بغیر پیسے لینا جائز نہیں ہے۔

نیز  مسجد  کی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ امام صاحب کو اتنی معقول تنخواہ دیں جو معتدل انداز میں ایک متوسط گھرانے کے اخراجات کے لیے کفایت کرے۔

"فتاوی شامی"  میں ہے:

"(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح، وتمامه في البحر."

(کتاب الوقف،4/367،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503101432

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں