بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

امام کا ایک بالشت اونچائی پر کھڑا ہو کر امامت کرنا


سوال

امام مقتدیوں سے کتنی اونچائی تک کھڑا ہو سکتا ہے؟ ہماری مسجد میں محراب جو بنایا گیا اس کی اونچائی مقتدیوں کی صف سے تقریباً ایک بالشت زیادہ ہے، تو کیا ایسی صورت میں نماز میں کوئی کراہت آئے گی؟ ایک صاحب کا کہنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں نماز مکروہ ہوگی۔ اس مسئلہ کو مکمل تفصیل کے ساتھ دلائل کی روشنی میں واضح کر دیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں امام کا ایک بالشت  کی اونچائی پر کھڑا ہونےسے چوں کہ مقتدیوں سے قابلِ لحاظ امتیاز ظاہر نہیں ہوتا؛ اس لیے امام کا ایک بالشت کی اونچائی پر کھڑا ہو کر امامت  کرنا اور نماز پڑھانا بلا کراہت جائز ہے۔ مذکورہ صاحب کا یہ کہنا کہ "نماز مکروہ ہو جاتی ہے" درست نہیں ہے۔ البتہ اگر بلا ضرورت  ایک ذراع  (شرعی گز = 18 انچ) کے برابر یا اس سے زیادہ اونچائی پر کھڑا ہو جس سے امتیاز حاصل ہوتا ہو اور امام کے ساتھ مقتدی  بھی نہ ہوں تو پھر مکروہ ہو گا۔ اگر اتنی اونچی جگہ پر امام کو کھڑے ہونے کی ضرورت پیش آئے تو کچھ مقتدی بھی امام کے ساتھ کھڑے ہوجائیں، اس صورت میں  مکروہ نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"(وانفراد الإمام على الدكان) للنهي، وقدر الارتفاع بذراع، ولا بأس بما دونه، وقيل ما يقع به الامتياز وهو الأوجه ذكره الكمال وغيره (وكره عكسه) في الأصح وهذا كله (عند عدم العذر) كجمعة وعيد، فلو قاموا على الرفوف والإمام على الأرض أو في المحراب لضيق المكان لم يكره لو كان معه بعض القوم في الأصح،(عند عدم العذر) كجمعة وعيد."

(کتاب الطهارۃ، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، ج: 1، 646، ط: ایچ، ایم، سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ويكره قيام الإمام وحده في الطاق وهو المحراب ولا يكره سجوده فيه إذا كان قائما خارج المحراب هكذا في التبيين وإذا ضاق المسجد بمن خلف الإمام فلا بأس بأن يقوم في الطاق. كذا في الفتاوى البرهانية ويكره أن يكون الإمام وحده على الدكان وكذا القلب في ظاهر الرواية. كذا في الهداية وإن كان بعض القوم معه فالأصح أنه لا يكره. كذا في محيط السرخسي ثم قدر الارتفاع قامة ولا بأس بما دونها ذكره الطحطاوي وقيل: إنه مقدر بما يقع به الامتياز، وقيل: بمقدار الذراع اعتبارا بالسترة وعليه الاعتماد. كذا في التبيين وفي غاية البيان هو الصحيح. كذا في البحر الرائق."

(کتاب الطهارۃ، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج: 1، صفحہ: 108، ط: دار الفکر)

 البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"(قوله: وانفراد الإمام على الدكان وعكسه) أما الأول فلحديث الحاكم مرفوعا «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن يقوم الإمام فوق ويبقى الناس خلفه» وعللوه بأنه تشبه بأهل الكتاب فإنهم يتخذون لإمامهم دكانا أطلقه فشمل ما إذا كان الدكان قدر قامة الرجل أو دون ذلك وهو ظاهر الرواية وصححه في البدائع لإطلاق النهي وقيده الطحاوي بقدر القامة ونفى الكراهة فيما دونه وقال قاضي خان في شرح الجامع الصغير إنه مقدر بذراع اعتبارا بالسترة وعليه الاعتماد وفي غاية البيان وهو الصحيح وفي فتح القدير وهو المختار لكن قال الأوجه الإطلاق وهو ما يقع به الامتياز لأن الموجب وهو شبه الازدراء يتحقق فيه غير مقتصر على قدر الذراع اهـ."

(کتاب الصلاۃ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، تغميض عينيه في الصلاة، ج: 2، صفحہ: 28، ط:  دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی دارالعلوم دیوبند ج: 4، صفحہ: 117تا 199)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200404

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں